تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 36 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 36

تاریخ احمدیت۔جلد 26 36 گویا که خدا خود اتر آیا تھا زمیں پر 66 سال 1970ء دن رات ایک ہی دھن رہی ایک ہی لگن رہی۔کس قدر شدید چوٹیں قلب پاک پر پڑیں اور پڑتی رہیں۔تہمت و افتراء کا ٹھکانانہ رہا شیطان بھی اپنی ساری طاقت صرف کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا مگر کچھ نہ بگاڑ سکا۔چاند چمکتا رہا کتے بھونکتے رہے۔اور ادھر ایک چپ رہی۔دل پر جو گزرتی ہوگی ہوگی مگر زبان خاموش رہی فریاد کی تو اپنے مولا کے حضور۔غرض گریۂ یعقوب راتوں کو خدا کے سامنے صبر ایوبی برائے خلق باخندہ جبیں وہ رخصت ہو گئے اور اس صبر وشکر کے نتیجہ میں نیز دیگر بشارتیں پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو منتخب کیا جو ان کا فرزند اور انہیں کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بشارت کے مطابق مبارک بن کر حضرت اماں جان کی گود میں دیا گیا تھا۔خلافت ثالثہ کا انتخاب بھی ایک روشن نشان ہے۔جن میں فراست ہے اور روحانیت ہے اور جن کے دل حالات گرد و پیش کو یادر کھتے ہوئے ایمانی گواہی دے سکتے ہیں کہ اُس وقت ایک بہت خاص الہی تصرف تھا کہ جس نے سب کے ہاتھ بلا چون و چرا بیعتِ ناصر کے لئے آگے بڑھا دئے، الحمد للہ۔میں سمجھتی ہوں میرا ایمان ہے کہ دونوں صورتوں میں کیا ”مبارک کا بدلہ ہونے کے، کیا حضرت مصلح موعود کی عالی شان بے نظیر خدمات کی قبولیت اور ان کے دل کی پکار کے لحاظ سے، یہ خلافت بھی ضمیمہ ہے حضرت مصلح موعود کی خلافت خاص کا۔گویا ان کا وجود ہی ہم سب کو خدا تعالیٰ نے ناصر کی صورت میں دوبارہ بخش دیا ہے۔خدا تعالیٰ اس دور خلافت کو بیحد با برکت بنائے اور ہمارے موجودہ خلیفہ کے ہاتھوں سے بڑی بڑی فتوحات اسلام حاصل ہوں، بہت روشن نشان ظاہر ہوں، دنیا کے چپہ چپہ پر حقیقی اسلام یعنی احمدیت کا پرچم لہرائے۔روز افزوں ترقی ہو اور تمام موجودہ جماعت کے بھی دلوں اور گھروں میں نسلاً بعد نسل نیکی تقویٰ کے بیچ خدائے کریم ڈال دے، کمزوریوں کی ستاری کے پردہ رحمت میں اصلاح فرمائے۔اور میرے بہت پیارے بہت پیار کرنے والے بھائی کو جت اعلیٰ میں مقامِ اعلیٰ میں بارش کی طرح بشارتیں پہنچتی رہیں۔آمین۔سیدی خلیفہ مسیح الموعود فرزند المصلح الموعوداللہ کی راہ میں سفر کو جارہے ہیں۔آپ سب پر فرض ہے کہ در ددل سے دعائیں کریں اور کرتے رہیں کہ ہر کام میں ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور نصرت شاملِ حال رہے خدا تعالیٰ صحت دے، طاقت، ہمت دے اور اپنی جناب سے زیادہ سے زیادہ اس خدمت کے شرف سے نوازے۔ان کے زبان و قلم میں بہت خاص برکت بخشے علم و عرفان،