تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 35
تاریخ احمدیت۔جلد 26 35 سال 1970ء سیوطی (ولادت ۸۴۹ هجری ۱۴۴۵ء۔وفات ۹۱۱ ھجری ۱۵۰۵ء) کی کتاب المزهر في علوم اللغة وانواعهھا میں بھی اس نظریہ کا نام ونشان نہیں ملتا نہ کوئی ایسی مفصل بحث یہ ثابت کرنے کے لئے موجود ہے کہ دنیا کی تمام زبانیں عربی سے نکلی ہیں، اس کے برعکس انہوں نے بعض ائمہ لغت اور مسلم محققین کے وہ اقوال درج کئے ہیں جو عربی کے ام الالسنہ ہونے کے بالکل برعکس ہیں۔البتہ بعض آراء ایسی بھی درج کی ہیں جن سے زبان عربی کے کمالات اس کے سب سے اول سب سے افضل اور سب سے وسیع تر زبان ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔مگر یہ ہرگز ذکر نہیں کہ عربی زبان ہی دنیا بھر کی تمام زبانوں کا منبع اور ماخذ ہے۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی اہم تحریک دعا حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے قلم مبارک سے الفضل ۴ را پریل ۱۹۷۰ء میں حسب ذیل الفاظ میں ایک نہایت اہم تحریک دعا سپر د اشاعت ہوئی۔زمانہ، زمانہ ہے محمود کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کو بہت کم عرصہ گزرا تھا کہ ایک شب میں نے خواب میں دیکھا آپ صحن میں کھڑے ہیں، ہمیں پاس کھڑی ہوں۔میں نے منہ اوپر اٹھا کر آپ کے چہرہ کی جانب دیکھا اور سوال کیا کہ اتبا (اسی طرح جیسے بچپن میں مخاطب کرتی تھی ) کونسا لڑکا آپ کا وہ خاص نشان ہے (رحمت کا نشان وغیرہ میرے ذہن میں ہے ) آپ نے میری طرف سر جھکا کر میری نظروں سے اپنی نظریں ملائیں۔ان نظروں کی خاص روشنی ، خاص گہرائی، خاص پیار میں کبھی نہیں بھول سکتی۔گویا یہ میرا خواب پرانا نہیں بلکہ میں اس وقت بھی وہ سب کچھ دیکھ رہی ہوں اور سن رہی ہوں اور فرمایا بہت ہی شیریں آواز میں ” کہ سارے ہی اپنے اپنے وقت پر میری دعاؤں سے فیض پائیں گے مگر یہ زمانہ محمود کا زمانہ ہے۔میرے دل نے یقین رکھا اسی وقت سے کہ وہ خاص بیٹا میرے پیارے بھائی محمود ہی ہیں۔اب مجھے خیال آتا ہے اور سوچتی رہتی ہوں کہ کس شان سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی ، کس طرح سیدی و جیبی خلیفتہ اسیح الثانی نے اپنا عہد پورا کیا اور اپنی تمام قو تیں تمام عمر کے لئے اسلام کا علم ، تو حید کا جھنڈا گل عالم میں بلند کرنے میں وقف کر دیں اور اپنی زندگی میں ہی ثابت کر دیا کہ نور ہی نور ہے ھے