تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 363
تاریخ احمدیت۔جلد 26 363 سال 1970ء خدا تعالیٰ کے فضل سے دوست انفرادی طور پر بھی تہجد کی نماز ادا کرتے ہیں مگر جماعت نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ہر ماہ پہلے ہفتہ اور اتوار کی رات کو ہر جگہ باجماعت نماز تہجد ادا کی جایا کرے۔سواس فیصلہ کے مطابق ان دو ماہ میں دو دفعہ باجماعت نماز تہجد ادا کی گئی ایک دفعہ عزیزم حافظ قدرت اللہ صاحب امام ہوئے۔سیرت مسیح موعود علیہ السلام پر جولیکچر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے انڈونیشیا میں دیا تھا اس کے ترجمہ پر نظر ثانی کرائی گئی۔انشاء اللہ جلد ہی شائع ہو جائے گا۔وباللہ التوفیق۔خاکسار نے اپنے ایک مضمون ” صداقت امام مہدی“ پر نظر ثانی کی ، کافی لمبا مضمون ہے نصف سے زیادہ باقی ہے کوشش کر رہا ہوں کہ جلد مکمل ہو جائے۔ایک مخلص چینی دوست تن۔بی۔یونگ جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں انہیں مع مولوی ابوبکر صاحب دیکھنے گیا۔انہوں نے شہر ” تنجو نگ بائے میں اپنا مکان جماعت کے لئے وقف کر دیا ہوا ہے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔۔۔اس اڑھائی ماہ کے عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جا کرتا، گاروت،سورابایا، پواووکرتو ، پڈنگ وغیرہ سے ۱۰ اکس کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔الحمد للہ علی ذالک۔اکتوبر ۱۹۷۰ء کے آغاز میں بانڈونگ میں پانچ روزہ ایشو افریقن اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی تاریخ انعقاد ۶ تا ۱۰ اکتوبر۱۹۷۰ء)۔کانفرنس مرد یکا آزادی محل بانڈ ونگ میں ہوئی اور اس میں ہیں سے زائد اسلامی ملکوں کے نمائندے شامل ہوئے جن میں تنکو عبدالرحمن صاحب سابق وزیر اعظم ملائیشیا خاص طور پر قابل ذکر ہیں جو ان دنوں اسلامی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری بھی تھے تنظیم نے فیصلہ کیا که افریشیائی اسلامی تنظیم کو بین الاقوامی تنظیم کر دیا جائے جس کا صدر پاکستان سے ہو جبکہ نائب صدر انڈونیشیا، نائیجیر یا شام سے لئے جائیں گے۔اس کی مجلس انتظامیہ بھی ہوگی جس کا سیکرٹری انڈو نیشیا کا نمائندہ ہو گا۔اس موقع پر میاں عبدالحئی صاحب مبلغ انڈونیشیا نے جماعت احمد یہ انڈونیشیا کے تعاون سے کانفرنس کے مندوبین سے رابطہ کرنے اور ان تک پیغام حق پہنچانے کا وسیع پیمانے پر انتظام کیا اور حالات کے ناسازگار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے امید سے بڑھ کر کامیابی عطا فرمائی۔اس سلسلہ میں انہوں نے درج ذیل اقدامات کئے۔ا۔میاں عبدالحئی صاحب نے جا کرتا اور مرکز سلسلہ سے بذریعہ ہوائی ڈاک لٹریچر منگوایا اور 45