تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 362 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 362

تاریخ احمدیت۔جلد 26 362 سال 1970ء چونکہ شمالی اور وسطی سماٹرا میں عرصہ سے کوئی مبلغ نہ گیا تھا اس لئے وہاں کی جماعتوں میں وہ جوش اور تبلیغی ولولہ نہ رہا تھا جو ہماری جماعتوں کا امتیازی نشان ہے۔مکرم جناب وکیل التبشیر صہ ر صاحب کی ہدایت کے مطابق وہاں جانے کا پروگرام بنایا گیا۔سوخاکسار اور مولوی ابو بکر صاحب دونوں سے صلح (جنوری ) (۱۳۴۹ بهش/ ۱۹۷۰ء) کو شمالی سماٹرا کے لئے بذریعہ بحری جہاز جا کرتا سے روانہ ہو گئے۔پہلے ہم میدان پہنچے اور ایک ہفتہ وہاں رہنے کے بعد تا بنگ تنگی ، پہا تو اور تنجو نگ بائے“ کا دورہ کیا۔ہمارے اس دورے سے جماعتوں میں اخلاص اور جوش ابھر آیا فَشُكُرُ لِلهِ۔ابھی میدان سے خاکسار کو ایک ممبر کا خط ملا ہے جس میں اس نے شکریہ ادا کیا ہے اور لکھا ہے کہ اب جماعت کے مردوں، عورتوں میں درس جاری ہو گئے ہیں اور بچوں نے بھی پڑھائی شروع کر دی ہے وہاں اب مولوی محمد ایوب صاحب کو مقرر کیا گیا ہے۔سماٹرا میں جماعت پاڈنگ، جماعت پمپانگن اور جماعت ڈوکو کا دورہ کیا گیا۔وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں بڑے اخلاص سے کام کر رہی ہیں۔افسوس ہے وقت کی تنگی کی وجہ سے ہم جماعت پاکن بار و تک نہ پہنچ سکے۔جب ہم میدان شہر میں تھے تو ہم نے وہاں کے بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ سماٹرا کے سب سے بڑے افسر پولیس ، شمالی سماٹرا کے سب سے بڑے افسر پولیس اور شہر میدان کے میئر سے ملاقات کی گئی اور انہیں انگریزی کتب جن میں انگریزی ترجمۃ القرآن اور اسلامی اصول کی فلاسفی بھی شامل تھیں بطور ہدیہ دی گئیں اور زبانی بھی ان کے سامنے احمدیت کے قیام کی غرض و غایت کو واضح کیا گیا اور یورپ و امریکہ میں جماعت کی جدوجہد کا مختصر ذکر کیا گیا۔الحمد للہ یہ تینوں تقاریب خوشگوار ماحول میں ہوئیں۔اس عرصہ میں بعض خوشکن واقعات پیش آئے مثلاً سپریم کورٹ انڈونیشیا نے مسجد میدان کا فیصلہ ہمارے حق میں دے دیا فَشُكُرُ لِلهِ۔اس مقدمہ کی کامیابی میں ہمارے نوجوان ایڈووکیٹ مخلص احمدی نسبون محمود کی جدو جہد کا بڑا دخل ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی جد و جہد کو قبول فرمایا اور اپنے فضل سے ہمیں کامیابی بخشی۔ماہ فروری میں ریڈیوسو کا بومی میں ہمیں ہر ہفتہ اور بدھ کی صبح کو درس دینے کا موقع دیا گیا جس میں حضرت مصلح موعود کی لکھی ہوئی سیرت النبی (دیباچہ قرآن کریم انگریزی) سنائی جاتی رہی۔ریڈیو تاسیک ملایا میں بھی ہماری ایک خاتون کو بولنے کا موقع دیا جاتا ہے۔