تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 352 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 352

تاریخ احمدیت۔جلد 26 352 سال 1970ء احاطہ کسی طرح بھی ممکن نہیں۔اس لحاظ سے قرآن مجید کی تفسیر میں اگر چہ بہت زیادہ اور غیر معمولی کام ہوا ہے لیکن اس کے خزائن ختم نہیں ہوئے بلکہ قیامت تک ضروریاتِ زمانہ کے لحاظ سے اس میں سے نت نئے معارف و حقائق نکلتے رہیں گے۔اس کے بعد میجر جنرل محمد اکبر خان صاحب نے خطاب فرمایا اور اس قسم کی دینی نمائش کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ جماعت احمدیہ کو قرآن مجید سے شغف اور دلی محبت ہے اس کا مظاہرہ اس نمائش سے واضح طور پر ہوتا ہے۔آپ نے کہا کہ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس کو اگر غور سے پڑھا جائے تو اس میں ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ملتا ہے۔چنانچہ موجودہ زمانہ کے دفاع اور طریق جنگ کے متعلق اسلام نے جو راہنمائی فرمائی ہے وہ بڑی عظیم اور شاندار ہے اور کئی قو میں اس کی نقل کر رہی ہیں اور کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں اس لئے ہماری کامیابی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے کہ ہم قرآن کریم پر تدبر کریں اور اس کی بتلائی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔اس کے بعد جنرل صاحب نے فیتہ کاٹ کر نمائش کا افتتاح فرمایا اور تمام نمائش کو ملاحظہ فرمایا اور تراجم قرآن کریم کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے عظیم الشان کام کو سراہا۔نمائش میں دنیا کی مختلف اہم زبانوں میں تراجم قرآن مجید اور عہد اولی سے لے کر زمانہ حاضرہ تک مختلف مکاتیب فکر کی تفاسیر قرآنی اور حضرت عثمان بن عفانؓ کا وہ تاریخی نسخہ جس کے تلاوت کرتے ہوئے آپ شہید ہوئے تھے اور جس کا اصل نسخہ تاشقند میں ہے اس کی فوٹو کاپی بھی رکھی گئی تھی۔اسی طرح متعدد نادر قلمی تفاسیر اور قرآن مجید کے نسخے رکھے گئے تھے۔ان تمام تبرکات اور قرآن مجید کے متعلق علمی ذخائر کو دیکھ کر دل پر عجیب کیفیت وارد ہوتی تھی۔چنانچہ معزز مہمان نے اپنے انہی تاثرات کو یوں قلمبند فرمایا:۔مجھے یہ دیکھ کر از حد مسرت ہوئی کہ یہ ادارہ اس قدر عمدہ کام سرانجام دے رہا ہے اللہ تعالیٰ اور بھی ہمت اور کامیابی عطا فرمائے۔آمین چوہدری احمد مختار صاحب چیئر مین سیرت کونسل نے آپ کو تفسیر صغیر اور تفسیر سورۃ فاتحہ بطور تحفہ پیش کی اور جنرل صاحب نے اپنی تین تازہ تصنیفات لائبریری میں استفادہ عام کے لئے مرحمت فرما ئیں۔نمائش کو دیکھنے کے لئے سینکڑوں افراد باہر منتظر کھڑے تھے۔چنانچہ جنرل صاحب کی روانگی کے بعد احباب نے جوق در جوق نمائش کو رات دس بجے تک دیکھا اور ہر طبقہ خیال کے احباب نے اس نادر اور شاندار نمائش پر انتہائی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔34