تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 346
تاریخ احمدیت۔جلد 26 346 سال 1970ء توحید کے نام پر شائع کی جو گیانی عباداللہ صاحب کی تصنیف ہے۔سرسہ (Sirsa) ضلع حصار (بھارت) کے ایک سکھ و دوان سردار گورمیت سنگھ جی ایڈووکیٹ نے جو خود بھی کئی کتابوں کے مصنف ہیں اس پر تبصرہ کیا جو انبالہ چھاؤنی کے ماہوار رسالہ گورونانک اولیش کے مئی ۱۹۷۰ء کے پرچہ میں شائع ہوا۔آپ لکھتے ہیں: گورو نانک جی کے پانصد سالہ جنم دن منانے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہر ایک مصنف نے اپنے اپنے خیالات کے مطابق ان کی زندگی کے الگ الگ پہلو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔گور وصاحب کا مسلمانوں سے اور اسلام سے ایک خاص تعلق تھا اور یہی وجہ ہے کہ جب گوروجی کی وفات ہوئی تو مسلمانوں نے ان کی نعش پر یہ کہ کر اپنا حق جتلایا کہ گور وصاحب ان کے ایک بزرگ تھے۔گور و صاحب اخوت اور مساوات کے اپاسک تھے اور تمام مذاہب کے ماننے والے ان کا احترام کرتے تھے اور انہیں اپنا ایک بزرگ تصور کرتے تھے۔ایک شاعر کا بیان ہے کہ گورو نانک شاہ فقیر ہندو کا گورو مسلمان کا پیر سیاسی حالات نے پلٹا کھایا اور سکھ اور مسلمان مذہبی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی سما جک اور سیاسی طور پر ایک دوسرے سے بہت دور ہو گئے۔لیکن مسلمانوں کے دلوں میں گورونانک جی کی کتنی عزت ہے اس کا ثبوت نومبر ۱۹۶۹ء میں ننکانہ صاحب میں گورو صاحب کے جنم کے دن کے وقت ملا۔مسلمانوں نے گوردوارے کے اندر آ کر گورو صاحب کو شردھا نجلی بھینٹ کی اور مسلمانوں نے جنم دن سے متعلق نکالے گئے جلوس میں شامل ہوکر اور اپنے مکانوں کی چھتوں پر بیٹھ کر پھولوں کی بارش کی۔اس موقعہ پر نظارت اصلاح و ارشاد (صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ ) نے گیانی عباد اللہ صاحب کی مصنفہ ایک کتاب شائع کی۔گیانی جی لا ہور ریڈیو سے پروگرام پنجابی دربار میں گور بانی اور اس کی تفسیر اور سکھ تاریخ پر مضامین پیش کرتے ہیں۔آپ کا یہ پروگرام بہت سنا جاتا ہے اور پسند کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ تو بلا ناغہ روزانہ ہی سنتے ہیں۔گورونانک جی کے زمانہ کے مسلمانوں کی طرح گیانی جی نے بھی اپنی کتاب ”گورونانک جی کا فلسفہ توحید میں گورو جی کو ایک مسلمان پیر اور اسلام کا مبلغ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔کتاب کے