تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 345 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 345

تاریخ احمدیت۔جلد 26 345 سال 1970ء ڈاکوؤں نے انتہائی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محلہ کے جس مکان سے اہل خانہ کی مدد کی گئی ان کو گولیوں کا نشانہ بنایا جس کی بناء پر پروفیسر بھٹی صاحب کے ہمسایہ محمد لطیف صاحب پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی جس کے نتیجہ میں کافی تعداد میں چھرے ان کے سینے، پیٹ اور بازوؤں میں پیوست ہو گئے۔اس کے علاوہ محمد لطیف صاحب کی بیوی مسرت، ان کی چار سالہ بچی ممتاز اختر اور بھاوج زبیدہ بی بی صاحبہ بھی چھرے لگنے سے زخمی ہو گئیں۔اس سانحہ کا سب سے دردناک پہلوز بیدہ بی بی صاحبہ کی تین سالہ بچی بشری کی ہلاکت تھی جو فائرنگ کی آواز سے خوفزدہ ہو کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی کہ ڈاکوؤں کی گولیوں کی زد میں آکر لقمہ اجل بن گئی۔28 اس دردناک حادثہ کی اطلاع جو نہی شیخوپورہ کے ایک احمدی نوجوان چوہدری عبدالرحمن صاحب ثانی (ابن چو ہدری مہتاب دین صاحب۔آپ ان دنوں ایل ایل بی کے طالبعلم تھے۔) کو ہوئی تو آپ فوراً جائے واردات پر پہنچے اور تمام زخمیوں کو اپنی کار میں ڈال کر سول ہسپتال پہنچا دیا اس بر وقت امداد کی وجہ سے صرف ایک جان ضائع ہوئی ورنہ اندیشہ تھا کہ باقی زخمی بھی کہیں دم نہ تو ڑ دیتے۔اس کے بعد چوہدری صاحب پولیس سٹیشن پہنچے اور سپاہیوں کو ساتھ لے کر ڈاکوؤں کا تعاقب کیا۔ڈاکو سڑک پار کر رہے تھے کہ ان کی کار پہنچ گئی۔پولیس نے ڈاکوؤں کو للکارا تو ڈاکو رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے لیکن ان کے ایک ساتھی کو پولیس نے قابو کر لیا۔تلاشی لینے پر اس سے پستول اور بندوق برآمد ہوئی اور پھر اس کی نشاندہی پر پولیس نے باقی ڈاکوؤں کا سراغ بھی لگالیا اور گرفتاریاں شروع کر دیں۔ایس پی شیخو پورہ اور عوام نے چوہدری عبدالرحمن صاحب کی شجاعت اور جذبہ خدمت خلق پر خراج تحسین پیش کیا اور ایس پی صاحب نے پولیس کے ساتھ تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔جو مظلوم خاندان زخمی ہوا اگر چہ احمدی نہیں تھا لیکن جماعت احمدیہ شیخوپورہ نے اس کی مالی امداد کرنے کی سعادت حاصل کی۔29 گورو نانک جی کا اسلام اور مسلمانوں سے تعلق نومبر ۱۹۶۹ء میں سکھ دنیا نے گورونانک جی کا پانصد سالہ جنم دنیا بھر میں بڑی دھوم دھام اور شان وشوکت سے منایا۔اس موقعہ پر نظارت اصلاح وارشادر بوہ نے ایک کتاب ”گورونانک جی کا فلسفہ