تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 327
تاریخ احمدیت۔جلد 26 327 سال 1970ء انہوں نے شہر کے پیرا ماؤنٹ چیف کے خوب کان بھرے ہوئے تھے۔آپ اس مخالف چیف کو حکمت و دانائی سے سمجھانے اور زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔زمین کے حصول کے بعد جب احمدیہ مسجد کی تعمیر کا مرحلہ آیا تو مخالفوں نے پھر شور مچانا شروع کر دیا اور عیسائی پادریوں نے پھر چیف کو اکسایا کہ احمد یہ مشن والوں کو شہر کے قریب مسجد بنانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔اس پر پھر آپ مشن کی مدد کے لئے آگے آئے اور دانائی سے فتح یاب ہوئے۔آپ جب اس معاملہ کو حل کرنے کے لئے اپنی ریاست سے بوتشریف لائے تو آپ نے ملکی رواج کے مطابق شہر کے مخالف چیف کو تحفہ پیش کیا اور محبت و احترام سے بات کی اور اسے سمجھایا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پھر پانسہ پلٹ گیا اور جماعت کو شہر کے قریب مسجد کی تعمیر کی اجازت دینے پر پیرا ماؤنٹ چیف راضی ہو گیا اور عیسائیوں کی مخالفت رائیگاں گئی۔مرزاعبدالحمید صاحب وفات: ۵/اگست ۱۹۷۰ء آپ قادیان کے مغل برلاس خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کرنے کے بعد ۱۹۱۷ ء میں باقاعدہ ملازمت اختیار کی۔آپ کو قادیان کے قدیمی رسائل تفخیذ الا ذہان، ریویو آف ریلجز (اردو)، الفضل اور مصباح کے اولین کارکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔جہاں آپ نے حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل مرحوم کی زیر نگرانی کم و بیش ۲۱ سال تک کام کیا ازاں بعد ۱۹۳۸ء میں نظارت بیت المال میں تبدیل ہوئے جہاں قریباً ۲۸ سال تک مفوضہ فرائض محنت اور خلوص سے سرانجام دینے کے بعد پنشن یاب ہو گئے۔چند ماہ بعد آپ کو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بھی کام کرنے کا موقعہ ملا اس طرح آپ کو پچاس سال تک سلسلہ کی خدمت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے ۷۰ سال کی عمر میں لندن میں وفات پائی اور تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔قریشی غلام احمد صاحب ریٹائر ڈ مختار عام صدر انجمن احمد یہ پاکستان وفات: ۵/اگست ۱۹۷۰ء آپ حضرت قریشی محمد شفیع صاحب بھیروی کے بیٹے تھے جنہیں ۳۱۳ اصحاب کبار میں شامل