تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 326 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 326

تاریخ احمدیت۔جلد 26 326 سال 1970ء کریم ناظرہ اور باترجمہ پڑھاتے۔جہاں بھی بیٹھتے احمدی اور غیر احمدی حضرات کا ایک گروہ آپ کے گرد بیٹھا ہوتا۔اور آپ علوم دینیہ اور مسائل سلسلہ انہیں بتا رہے ہوتے۔آپ نے پانچ ماہ کے قیام میں اپنے گاؤں کے ماحول کو بالکل دینی رنگ دے دیا۔آپ حلقہ محمود آباد کراچی کے پریذیڈنٹ بھی رہے۔آپ کے بڑے بھائی جماعت احمد یہ سعد اللہ پور کے پریذیڈنٹ بھی رہے۔چوہدری غلام احمد صاحب کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔79 پیراماؤنٹ چیف آنریبل الحاج المامی سوری آف سیرالیون وفات: یکم اگست ۱۹۷۰ء بعمر ۱۱۹ سال آپ مدت سے احمدیت کے ہمدرد اور مداح تھے مگر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے آپ کو ۱۹۴۸ء میں عطا فرمائی۔دین کی خدمت اور قربانیوں کی وجہ سے آپ سیرالیون میں احمدیہ مشن کے ایک مضبوط ستون بن گئے۔مشن کی ابتداء میں اس کی گرانقدر مالی امداد کی توفیق بھی پائی۔سیرالیون میں جماعت کے صدر بھی رہے اور دس سال تک اس منصب پر فائز رہ کر احمدیت کی خدمت سرانجام دی۔آپ نہایت دیندار منتقی و پرہیز گار بزرگ تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت بارعب شخصیت اور وجود عطا فرمایا تھا۔قد لمبا اور طبیعت پر سکون تھی۔بڑے ملنسار ، خوش اخلاق اور مہمان نواز بزرگ تھے جو شخص بھی آپ سے ملتا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔تین بار حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔سلسلہ احمدیہ اور خلافتِ احمدیہ کے ساتھ بے حد محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ان کا ایک لڑکا محمد کو نئے ربوہ میں ان کے ذاتی خرچ پر لمبا عرصہ تعلیم پاتا رہا۔آپ نے ربوہ کی مسجد مبارک کی تعمیر کے لئے بھی پچاس پونڈ چندہ ادا کیا تھا۔احمدی مبلغین کو بڑے پیار اور محبت سے ملتے تھے۔سیرالیون میں آپ کا بڑا اثر ورسوخ تھا ویسے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت و دانائی اور معاملات سلجھانے کا ملکہ عطا فرمایا تھا چنا نچہ آپ نے اس خداداد ملکہ کو دین کی خدمت میں استعمال کیا۔مشن کی بہت مدد کی۔احمد یہ مدارس کی تعمیر میں آپ نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا اور بڑھ چڑھ کر چندہ بھی پیش کیا۔آپ نے بوشہر میں احمد یہ مشن کے قیام اور مسجد کی تعمیر کے لئے ایک بڑا قطعہ زمین وہاں کے پیرا ماؤنٹ چیف سے دلوایا۔اس زمین کے حصول میں بے حد مشکلات حائل تھیں۔شہر کے عیسائی لوگ اور مشنری اس بات کے سخت مخالف تھے۔