تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 325 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 325

تاریخ احمدیت۔جلد 26 325 سال 1970ء آپ کو اللہ تعالیٰ نے بلا کی ذہنیت عطا فرمائی تھی۔پرائمری کا امتحان اپنے گاؤں سے وظیفہ کے ساتھ پاس کیا۔تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا۔میٹرک کے بعد ملازمت کے سلسلہ میں آپ مختلف مقامات پر رہے لیکن عمر کا بیشتر حصہ کراچی میں گزارا۔مگر جس طرح آپ کی بے داغ جوانی زہد و تقویٰ کا نادر نمونہ تھی اسی طرح آپ کی ملازمت نیک نیتی ، دیانت داری اور فرض شناسی کی عظیم مثال تھی۔اس زمانہ میں جبکہ رشوت کا بازار ہر طرف گرم تھا اور پولیس کچہری ، ریلوے وغیرہ محکمے اس سلسلہ میں بہت بدنام تھے۔چوہدری صاحب کی ذات اس لعنت سے کلیۂ مبرا اور پاک تھی۔تنگی اور تنگ دستی کے اوقات بھی دیکھے لیکن ہمیشہ رزق حلال پر تکیہ کیا۔لوگوں کی ہمیشہ بے لوث خدمت کرتے اگر کوئی شخص کسی کام میں امداد کی خاطر آپ کو ہمراہ لے جاتا تو کوشش کرتے کہ اس پر بوجھ نہ بنیں اور پیشتر اس کا کرایہ وغیرہ بھی اپنی جیب سے دیتے۔اس امانت اور بے لوث خدمت کا نتیجہ ہی تھا کہ کراچی ریلوے کے معمولی قلی سے بڑے بڑے افسر تک آپ کو جانتے اور آپ کی قدر کرتے تھے۔بڑی خندہ پیشانی سے ملتے اور ہمیشہ مسکرا کر بات کرتے۔آپ محکمہ ریلوے سے ریٹائر ہوئے۔ریلوے کے نچلے درجہ کے ملازمین آپ کے پاس آتے۔آپ ان کی بات سنتے اور ان کے محکمانہ کام بڑی توجہ اور انہماک سے سرانجام دیتے۔بغیر کسی معاوضہ یا لالچ کے لوگوں کی درخواستیں لکھتے اور پھر ان کی پیروی بھی خود ہی کرتے۔آپ کی وفات پر کئی افراد نے کہا کہ وہ چوہدری صاحب کے احسانات زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتے۔آپ ہر سال کراچی سے جلسہ سالانہ پر جانے والے احباب کے لئے چناب ایکسپریس میں ایک یا دو بوگیاں زائد لگوانے کا انتظام کرتے۔اس دور کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ارشاد کے مطابق کارکنوں کو ہڑتال سے باز رکھا۔محکمہ ریلوے کی طرف سے آپ کو طویل خدمات کے صلہ میں ایک سند خوشنودی اور ایک نقرئی تمغہ دیا گیا۔۱۹۶۱ء کی مردم شماری میں اعلیٰ کارکردگی کی بناء پر آپ کو حکومت کی طرف سے سند خوشنودی عطا کی گئی اور ایک طلائی تمغہ بھی ملا۔سال ۱۹۶۹ء میں اپنے گاؤں میں آکر رہے۔یہ پورا عرصہ آپ نے تبلیغ دین میں گزارا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تحریک مبارک پر قرآن مجید پڑھنے اور پڑھانے پر خاص زور دیتے۔آپ نماز فجر کے بعد بلا ناغہ درس قرآن کریم دیتے۔ناشتہ کے بعد گاؤں کے بچوں اور بچیوں کو قرآن