تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 310 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 310

تاریخ احمدیت۔جلد 26 310 سال 1970ء کئی گھرانے محض آپ کی دعاؤں سے ثمر بار ہوئے۔الحمد للہ۔مگر خود راضی برضا صابر و شاکر تھے۔اوائل عمر میں ہی آپ کے چارلٹر کے اور ایک لڑکی قضائے الہی سے فوت ہو گئی تھی۔جس کی وجہ سے آپ کی صحت پر کافی اثر پڑا تھا۔مگر ہمیشہ خدا کا شکر ادا کرتے رہے۔والدہ محترمہ اکثر فرما تیں کہ اپنے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں فراخی رزق سے نوازے۔تو آپ سن کر مسکرا دیتے اور فرماتے کہ میرا اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔پھر فرمایا اللہ سے تو تو بہ اور بخشش جیسی عظیم نعمتیں حاصل کرنی چاہئیں۔تم دیکھنا کہ ہماری اولاد کتنی خوشحال ہوتی ہے عزت اور شہرت پائے گی۔میں ان کے لئے دعائیں کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ناصر اور نثار بہت بڑے آفیسر بنیں گے اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولا د کو ہر نعمت سے نوازا۔آپ نے تمام باقی زندگی تقریباً ۲۰ سال گوکھو وال چک نمبر ۱۲۱ میں گزار دی۔آخری دنوں میں بہت زیادہ کمزور ہو گئے۔مگر آپ کے وصال کے لمحات بھی نہایت کیف آگیں تھے ایک ماہ قبل آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بھائی کو ، سرال والوں کو اور دیگر رشتہ داروں کو خطوط لکھے کہ میں اب جانے والا ہوں اس لئے جو مجھ سے تمہارے ساتھ زیادتیاں ہوئیں مجھے معاف کر دیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو بھی معاف کر دے۔حالانکہ آپ اس عرصہ میں شدید بیمار نہ ہوئے تاہم والدہ سمجھ گئیں کہ وقت آخر ہے آپ کی چارپائی کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئیں اور خدمت کا حق ادا کر دیا اور تب ایک دن اپنے پاس بیٹھی ہوئی ہماری والدہ سے فرمانے لگے کہ مقبول میں نے تمہیں معاف کیا تم بھی معاف کر دینا“ والدہ کی آواز بھتر اگئی۔جواب دیا اللہ آپ کو صحت دے ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں۔آپ نے اشارہ کیا کہ خاموش رہو اور تب آپ نے لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھا اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔گوکھو وال کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔46 حضرت کیپٹین ڈاکٹر غلام محمد صاحب ساکن چک چھور مغلیاں وفات: ۳ جون ۱۹۷۰ء آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں بذریعہ خط بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔بہت نیک صوم و صلوۃ کے پابند اور دعا گو بزرگ تھے۔ایک طویل عرصہ تک مقامی انصار اللہ کے زعیم اور صدر موصیان رہے۔کچھ عرصہ سیکرٹری اصلاح وارشاد اور امام الصلوۃ کا فریضہ بھی