تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 306
تاریخ احمدیت۔جلد 26 306 سال 1970ء مولوی فخر الدین صاحب مالا باری در ویش قادیان وفات: یکم مئی ۱۹۷۰ء آپ علاقہ مالا بار کے ایک متمول تاجر گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔عالم جوانی میں احمدیت قبول کی۔آپ صوبہ کیرالہ کے سب سے پہلے موصی تھے۔۱۹۴۷ء میں جولوگ اپنا سب کچھ گنوا کر قادیان آئے تھے انہیں جو مکان احمدی بھائیوں کے الاٹ ہوئے تھے ہر ایک مکان میں کتابوں اور اخباروں کا خاصہ سٹاک موجود تھا۔چند ایک لوگوں نے تو یہ خیال کر کے کہ یہ ان کی مذہبی کتا ہیں ہیں بے ادبی نہ ہو۔نظارت امور عامہ سے رابطہ کر کے سارا اسٹاک جماعت احمدیہ کے حوالہ کر دیا۔مگر بعض مجبور افراد نے اپنی ضروریات کے لئے اس سٹاک کو جو ان کے گھروں میں موجود تھا ردی میں بیچنا شروع کر دیا۔اس صورت حال میں باہمی مشورہ سے یہ امر اس طرح حل پذیر ہوا کہ جماعت کی طرف سے بھی اور چند ایک وہ درویش جو کتابوں کی تجارت کا کاروبار کرتے تھے وہ غیر مسلم افراد سے سلسلہ کی کتابوں کا سٹاک بازار میں ردی کاغذ کی قیمت سے کچھ زیادہ دے کر خریدنا شروع کر دیں۔اس طرح کتابوں کا سٹاک ضائع ہونے سے بچ جائے۔اس سکیم کے تحت جن بھائیوں کو کتابیں ردی میں خریدنے کی اجازت دی گئی ان میں فخر الدین صاحب مالا باری بھی تھے۔آپ نے ایک بڑا ذخیرہ علم کا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محفوظ کر لیا۔۱۹۵۰ء میں ہندوستان سے کچھ خاندان قادیان بلوائے گئے تھے اور پاکستان سے بھی درویشان کے اہل وعیال منگوانے کا کام جاری تھا اور مزید درویشان کی شادیاں بھی ہندوستان کی جماعتوں میں ہو گئی تھیں۔اور صدر انجمن احمدیہ پر اخراجات کا بار بڑھ گیا تھا۔اور اس وقت کا بجٹ آمد ان سب اخراجات کا متحمل نہیں رہا تھا۔اس لئے حضور انور کی اجازت سے درویشان میں یہ تحریک کی گئی تھی کہ جوا فرا داپنا گزارہ خود کوئی کام کر کے چلا سکتے ہوں وہ اپنے گزارہ کا بار انجمن کے بجٹ سے ہلکا کر دیں۔اس پر ۵۰-۲۰ درویش اس قربانی کے لئے تیار ہو گئے تھے۔ان میں مکرم فخر الدین صاحب بھی تھے۔آپ ایک عرصہ تک خود محنت کر کے اپنا گزارہ چلاتے رہے تا آنکہ ایک حادثہ میں آپ کے کو لہے کی ہڈی میں فریکچر ہو گیا اور چلنے پھرنے سے آپ ایک حد تک معذور ہو گئے۔آپ صدرانجمن احمدیہ کے مختلف دفاتر میں مفوضہ فرائض نہایت محنت اور خوش دلی سے سرانجام 41