تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 289
تاریخ احمدیت۔جلد 26 289 سال 1970ء حضرت چوہدری غلام محمد خاں صاحب آف کا ٹھ گڑھ ہوشیار پور پیدائش: ۱۸۸۷ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات: ۲۶ اکتوبر ۱۹۷۰ء حضرت چوہدری غلام محمد خاں صاحب مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے معروف گاؤں کا ٹھ گڑھ میں مکرم چوہدری رحمت خاں صاحب کے ہاں ۱۸۸۷ء میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے والد کی پہلی اولاد تھے۔آپ کے علاوہ تین اور بیٹے بھی تھے۔دوسرے بیٹے کا نام غلام رسول خاں اور تیسرے کا نام عبدالحمید خاں تھا۔آخری بیٹا جس کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔وہ کسی وجہ سے گھر سے چلا گیا اور بعد میں کوئی رابطہ نہ رہا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا چرچا پنجاب کے دیہات میں عام ہونے لگا تو کا ٹھ گڑھ کے حضرت سید محمد علی شاہ صاحب حضور کی زیارت کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔اور بیعت کر کے کاٹھ گڑھ کے پہلے احمدی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔جب یہ بیعت کر کے اپنے گاؤں واپس لوٹے تو انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور جب گاؤں کے رئیس چوہدری غلام احمد صاحب کو ان کے احمدی ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت سید محمد علی شاہ صاحب کو حکم دیا کہ یا تو احمدیت سے انکار کر دیں ورنہ گاؤں چھوڑ کر چلے جائیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس نیک بندہ نے محض خدا تعالیٰ کی خاطر گاؤں چھوڑنے کو ترجیح دی اور اپنا ایمان سلامت رکھا۔بعد میں جب گاؤں کے رئیس چوہدری غلام احمد صاحب پر احمدیت کی صداقت ظاہر ہوگئی تو حضرت سید محمد علی شاہ صاحب کو ڈھونڈ کر عزت کے ساتھ گاؤں لائے اور وہ کاٹھ گڑھ میں مقیم ہوئے اور ان کے ذریعہ احمد بیت گاؤں میں پھیلنے لگی۔حضرت چوہدری غلام محمد خاں صاحب کو بھی ۱۹۰۴ء میں قادیان جا کرے اسال کی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت اور بیعت کی توفیق ملی۔آپ کا ٹھ گڑھ کے ابتدائی احمدیوں میں شمار ہوتے ہیں۔کچھ دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے فیضیاب ہونے کے بعد جانے کی اجازت حضور سے چاہی تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ آپ ابھی چھوٹے ہیں کچھ عرصہ مزید قادیان میں ٹھہریں تا کہ آپ کو ہمارے دعاوی اور عقائد کا بخوبی علم ہو جائے۔اس پر آپ مزید اڑھائی تین ماہ تک قادیان میں مقیم رہ کر حضور کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔اس کے بعد حضور نے آپ کو جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔اس طرح آپ کو صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔اپنے خاندان میں سے اکیلے احمدی ہوئے۔بعد میں آپ کے دو بھائی مکرم غلام رسول خاں