تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 287
تاریخ احمدیت۔جلد 26 287 سال 1970ء ایک ہزار تھے آپ کی مخالفت اور بائیکاٹ میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر آپ ایک مضبوط چٹان کی طرح احمدیت پر ڈٹے رہے اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دی۔آپ حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب کے سمدھی تھے۔حضرت مولوی حیات محمد صاحب دھیر کے کلاں ضلع گجرات ولادت: قریباً ۱۸۸۵ء بیعت: ۱۹۰۴ء وفات : ۲۳ /اگست ۱۹۷۰ء نہایت درجہ فدائی، دعا گو اور صاحب رؤیا بزرگ تھے۔تقریباً ۳۵ سال تک مسجد احمد یہ دہلی دروازہ لاہور کے نقیب کے فرائض نہایت کامیابی سے بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ریٹائر ہوکر اپنے آبائی گاؤں میں آگئے اور تقریباً ۲۰ سال تک جماعت کی تربیت و خدمت میں مصروف رہے۔پانچوں نمازیں نہایت با قاعدگی کے ساتھ پڑھاتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء احمدیت کے چشمد ید واقعات سنا سنا کر احباب جماعت کے ایمان تازہ کرتے۔آپ کے داماد مکرم نذر محمد نذیر صاحب گولیکی رقمطراز ہیں کہ:۔حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی جو سلسلہ کے نامور عالم اور بزرگ تھے ان کی نیک صحبت اور تبلیغ سے آپ احمدیت میں داخل ہوئے۔احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے حقیقی بھائیوں کی طرف سے بہت تکالیف اٹھانا پڑیں لیکن مرحوم بہت صابر اور شاکر انسان تھے۔شروع سے ہی عبادت گزار اور دعا گو تھے۔شدت کی گرمی میں پورے روزے رکھ کر گندم کی کٹائی اور گہائی کا کام نہایت خوش اسلوبی سے ادا کرتے حتی الامکان نماز با جماعت ادا کرتے۔نماز تہجد اور نماز اشراق کی بھی پابندی کرتے اور یہ سلسلہ جب تک صحت رہی جاری رہا۔مرحوم نے تقریباً ۳۵ سال مسجد احمد یہ دہلی دروازہ لاہور میں بطور نقیب اور خادم کے گزارے اور مسجد دہلی دروازہ لا ہور ایک لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ملک کے گوشہ گوشہ سے احمدی احباب وہاں آکر ٹھہرتے۔ان کے طعام قیام کے انتظام میں مرحوم نہایت مخلصانہ طریقہ سے حصہ لیتے تھے۔احباب کی امانتیں ، چندوں کی وصولی ، اجلاس کی اطلاع، عیدین کے موقع پر انتظام، حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی آمد کے موقع پر انتظام، دعوتوں کی اطلاع وغیرہ ان سب کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مرحوم کو حضرت قریشی محمد حسین صاحب مرحوم مفرح عنبری والے، حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ، حضرت چوہدری اسد