تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 286
تاریخ احمدیت۔جلد 26 286 سال 1970ء مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیات میں سے تھیں۔خدا، اس کے رسول عمل ہے اور اس ﷺ اس کی کتاب قرآن کریم سے خاص محبت تھی۔خدمت خلق کا بہت شوق رکھتی تھیں۔مورخہ ۷ جولائی ۱۹۷۰ء کو عمر ۸۵ سال وفات پاگئیں۔مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۷۰ء کو بعد از نماز عصر مسجد مبارک سے ملحقہ میدان میں مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب انور نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں احباب شامل ہوئے۔اس کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں تدفین عمل میں آئی۔اولاد قریشی محمد عبد اللہ صاحب، قریشی عطاء اللہ صاحب حضرت خواجہ عبدالقیوم صاحب بی اے بی ٹی سیالکوٹی ولادت: قریباً ۱۸۹۴ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات: ۲۲ جولائی ۱۹۷۰ء آپ ایک لمبا عرصہ تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول کے فرائض انجام دیتے رہے۔ریٹائر ہونے کے بعد ہجرت کر کے ربوہ میں رہائش پذیر ہوئے۔آپ کے ایک فرزند میجر منیر احمد صاحب ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ پاک و ہند میں شہید ہو گئے۔قبل ازیں ایک فرزند جمیل احمد صاحب عین جوانی افریقہ میں وفات پاگئے لیکن آپ نے مومنانہ شان سے صبر و ثبات کا بہترین نمونہ دکھلایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بالخصوص در شین فارسی کا مطالعہ آپ کو بہت مرغوب تھا۔آپ بہت خوش رو و بلند قامت، بلند حوصله، زندہ دل اور علم دوست بزرگ تھے۔گو آپ شاعر نہ تھے مگر سخن شناس ضرور تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعارا کثر ور دزبان رہتے۔آپ گھر سے نکلتے تو بڑے وقار سے اور پورے لباس میں ہی نکلتے۔راہ میں ملنے والے احباب سے بڑے خلوص اور محبت سے ملتے۔اولاد: مرحوم نے تین لڑکے ( سلیم احمد صاحب، میجر محمد طیب صاحب اور عبدالسلام صاحب) اور چارلڑکیاں اور کثیر تعداد میں آگے ان کی اولا دا پنی یادگار چھوڑی ہیں۔حضرت چوہدری مراد بخش صاحب لدھیانوی 19 ولادت : ۱۸۹۰ء قریباً بیعت: ۱۹۰۵ء وفات: یکم اگست ۱۹۷۰ء نہایت ہی سادہ مزاج ، کم گو اور گوشہ نشین تھے۔آپ کے سب غیر احمدی رشتہ داروں نے جو قریباً