تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 282 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 282

تاریخ احمدیت۔جلد 26 282 سال 1970ء حافظ حامد علی صاحب اور تیسرے یکہ میں خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم اور مولوی محمد علی صاحب تھے۔حضور کے یکہ کے ہمراہ ہم چار پانچ کس تھے جب کلو سوہل اور بھڑ کے درمیان پہنچے تو نماز کا وقت ہو گیا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ نماز پڑھ لیں چنانچہ سب نے وضو کیا اور سنتیں ادا کیں۔بعد از فراغت سنت حضور نے ارشاد فرمایا کہ حکیم فضل دین صاحب مرحوم کو کہیں کہ نماز پڑھائیں۔عرض کی گئی کہ حضور ان کا یکہ آگے نکل گیا ہے حضور خاموش ہور ہے۔ہمراہی کسی دوست نے عرض کی کہ حضور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کا یکہ پیچھے آرہا ہے ان میں سے کوئی نماز پڑھا دے گا۔چنانچہ پھر حضور خاموش رہے۔خاکسار کے پاس چادر تھی میں نے چادر آگے بچھادی۔چنانچہ حضور نے نماز پڑھائی۔جب حضور نے سلام پھیرا تو مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کا یکہ بھی آ پہنچا۔مجھے صرف ایک ہمرا ہی دوست مسیح اللہ صاحب مرحوم محلہ دارالرحمت کا نام یاد ہے باقی دوستوں کے نام یاد نہیں ہیں۔حضور کے رکوع و سجود اور تشہد قدرے لمبے تھے۔آواز آپ کی دھیمی رقت و گداز سے پر تھی۔لیکچر سیالکوٹ کے موقع پر خاکسار اور میرے جماعتی محمد الدین جہلمی نے مشورہ کیا کہ چند یوم کی رخصت لے کر سیالکوٹ پیدل چلیں۔چنانچہ ہم دونوں قادیان دارالامان سے پہلے روانہ ہوئے۔بٹالہ پہنچ کر میرے ہمراہی نے کہا میں تو حضور علیہ السلام کی گاڑی پر جو کہ حضور کے واسطے ریز رو کی ہوئی ہے سیالکوٹ چلا جاؤں گا۔خاکسار نے عرض کی یہ ناممکن ہے چنانچہ وہ خاکسار سے الگ ہو کر سٹیشن پر چلا گیا اور خاکسار پا پیادہ ڈیرہ بابا نانک کو روانہ ہو گیا۔بوقت ظہر ڈیرہ بابا نانک نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا میں نے دیکھا کہ میرا ہمراہی بھی یکہ پر بیٹھا ہوا آرہا ہے میں جلدی سے شہر کے بازار سے ہو کر راستہ کا پتہ کر کے آگے نکل گیا۔چنانچہ دریا پر پہنچ کر ہم اکٹھے ہو گئے۔دریا سے چار پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بڑا گاؤں تھا۔جو عین سیالکوٹ کی سڑک پر واقع ہے۔شام کا وقت ہو گیا۔ایک مسجد میں گئے۔چنانچہ نمازی جمع ہو گئے۔جب تکبیر ہونے لگی تو میرے ہمراہی نے کہا نماز پڑھ لیں۔میں نے کہا کہ ہماری نماز ان کے پیچھے نہیں ہوتی۔یہ پڑھ لیں تو بعد میں ہم پڑھ لیں گے۔چنانچہ ایک آدمی سن رہا تھا اس نے کہا کہ نماز پڑھ کر تمہاری خبر لیں گے۔اس پر پھر میرے ہمراہی نے اصرار کیا میں نے کہا کہ فساد کی جگہ چھوڑ کر کسی اور جگہ رات بسر کر لیں گے۔چنانچہ اس گاؤں سے دوسری طرف قبرستان تھا جو فاصلہ پر تھا اور اس میں مسجد بھی تھی وہاں رات بسر کی اور رات کے دو بجے وہاں سے روانہ ہوکر گیارہ بجے سیالکوٹ پہنچے۔