تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 260 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 260

تاریخ احمدیت۔جلد 26 260 سال 1970ء متمتع ہونے کے لئے تدبیر اور دعا دونوں کو ان کے کمال تک پہنچانا ضروری ہے۔اس کے علاوہ حضور انور نے تمام کارکنان کو نصیحت فرمائی کہ اس جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے احباب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہوتے ہیں اسلئے ان کی ہر لحاظ سے خدمت کی جائے اور ان کی۔188 ضروریات کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے۔سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس مبارک اجتماع سے چار بار خطاب فرمایا۔حضور کے زندگی بخش اور روح پرور کلمات پوری جماعت کے ایمانوں کو ایک نئی قوت ، ان کے قلوب واذہان کو ایک نئی جلا ، ان کی روحوں کو ایک نئی بالیدگی اور خدمت دین کے عزائم اور حوصلوں کونئی بلندیوں سے ہمکنار کرنے کا باعث بنا اور جلسہ سالانہ کے روحانی فوائد سے متمتع ہونے کے بیش بہا مواقع میسر آئے۔کوئی ساعت بھی تو ایسی نہ تھی جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے تہی ہو۔ہر طرف آسمانی برکتوں اور فضلوں کی گویا بارش ہو رہی تھی اور اس مبارک جلسہ میں شامل ہر احمدی سجدات شکر بجالاتے ہوئے زبان حال سے پکار رہا تھا۔بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احساں اپنے دن رات ہر اک میداں میں دیں تو نے فتوحات بد اندیشوں کو تو نے کر دیا مات ہر اک بگڑی ہوئی تو نے بنا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي حضور انور کا افتتاحی خطاب خلیفہ راشد، نافله موعود سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے اپنے بصیرت افروز افتتاحی خطاب کے شروع میں فرمایا کہ عزیز از جان بھائیو! بہنوں اور بچو! ہمارے محبوب و مقصود رب کریم کے آپ پر ہزاروں سلام ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آنے کی غرض بھی اور اس جلسہ کی غرض بھی یہ بتائی ہے کہ ایسا سامان پیدا ہو کہ دلوں سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جائے اور خدائے واحد و یگانہ سے ذاتی محبت اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک والہانہ عشق دلوں میں پیدا ہو جائے۔اس تمہید کے بعد حضور نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ ہر نعمت و برکت اور رحمت جو ہمیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان ہی کے جلوے ہیں یہ اللہ ہے جس پر ہر احمدی کو ایمان لانا چاہیے۔۸۰ سال سے ساری دنیا اکٹھی ہو کر ہماری مخالفت پر ٹکی ہوئی ہے۔۸۰ سال ہوئے خدا تعالیٰ کے حکم سے اکیلی آواز ایک چھوٹے سے غیر معروف گاؤں سے بلند ہوئی تو اس کو خاموش کرنے