تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 12
تاریخ احمدیت۔جلد 26 12 سال 1970ء بندوں کے ساتھ جو پاک اور مطہر ہونا چاہتے ہیں، خلوص نیت رکھتے ہیں اور ان میں ایثار کا جذبہ پایا جاتا ہے اور اعمال صالحہ بجالانے والے ہیں۔ذاتی تعلق پیدا کرتا ہے اور یہ مشاہدہ ہے جس کے نتیجہ میں یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ( Personal God) پرسنل گاڈ ہے یعنی ایک ایسا قادر و توانا خدا ہے جو اپنے بندہ کے ساتھ زندہ تعلق رکھنے والا ہے“۔حضور نے خطاب کے آخر میں نصیحت فرمائی کہ :۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہاں اِکا دُکا کا سوال نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہر سال میں ہزاروں لاکھوں مشاہدات زندہ خدا سے زندہ تعلق کے جماعت دیکھ رہی ہے اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔اس بے بہا موتی کو جس کی قیمت کا اندازہ ہی نہیں اسے چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔زندہ خدا کی قدرتوں کا زندہ مشاہدہ ہی تو ہے جس کی اصل قدر اور قیمت ہے۔باقی چیزیں ایک دھیلے کی قیمت نہیں رکھتیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم اس کی قیمت کو پہچانیں۔اس کی قدر کو پہچانیں اور خدا کرے کہ ہماری اگلی نسل جس نے آہستہ آہستہ ہماری جگہ لینی ہے وہ بھی محض فلسفی بن کر نہ رہ جائے۔بلکہ ان کے اندر بھی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ایک بڑی مضبوط جماعت اور گروہ ایسا موجود در ہے جو اپنے زندہ خدا سے زندہ تعلق رکھنے والے ہوں اس وقت تک کہ خدا کا وہ وعدہ پورا ہو جائے کہ تمام بنی نوع انسان جماعت احمدیہ کی مقبول قربانیوں کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں آپ کے اور قرآن کریم کے گرد گھومنے والے ہوں گے۔خلافت لائبریری کا سنگ بنیاد سید نا حضرت فضل عمر المصلح الموعود کے محبوب مقاصد کی توسیع اور تکمیل کے سلسلہ میں فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف سے ۱۸ جنوری ۱۹۷۰ء کو ایک نہایت اہم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا مبارک آغاز ہوا اور ایک عظیم مرکزی لائبریری کی عمارت کے سنگ بنیاد کی بابرکت تقریب عمل میں آئی۔اس روز سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث سوا گیارہ بجے قبل دو پہر دفاتر صدرانجمن احمدیہ سے ملحق