تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 204 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 204

تاریخ احمدیت۔جلد 26 204 سال 1970 ء لیکن خالی یہ چیز نہیں ایک اور چیز بھی ہے جس کا انگریز دعوی نہیں کر سکتے تھے لیکن جس کا جماعت احمد یہ دعویٰ کر سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو جماعت کو پہلے سے زیادہ کثیر اور پہلے سے زیادہ مضبوط دیکھتا ہے اگر سورج کو زبان دی جائے تو وہ گواہی دے گا کہ ہر صبح کو میں یہ دیکھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور پہلے سے زیادہ کثیر ہو چکی ہے۔مثلاً افریقہ سے روزانہ بیعتیں آتی رہتی ہیں۔ہمارے غیر مبایعین کے سالانہ جلسہ میں پچھلے سال جتنے آدمی اکٹھے ہوئے تھے ان سے زیادہ میں ایک ایک دن میں بیعت فارموں پر دستخط کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے۔لیکن پھر بھی ہم کہتے ہیں کا فخر یہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے نہیں ہم تو بڑے ہی کمزور اور عاجز ہیں۔ہمارے پاس دنیا کا سہارا نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہمارا کام کر رہے ہیں اور ثواب ہمیں مل رہا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ورنہ آپ کیا قربانی دیتے ہیں۔جب تحریک جدید شروع ہوئی تو شاید لاکھ ڈیڑھ لاکھ کا سارا بجٹ تھا، جس میں سے اکثر حصہ یہاں خرچ ہوتا تھا مثلاً دفتر کے اخراجات ہیں، مبلغوں کی ٹرینینگ ہے، کتابوں کی اشاعت کا کام ہے۔میرے خیال میں اتنے بجٹ میں سے غیر ممالک میں خرچ کرنے کے لئے بمشکل ۲۵ ۳۰ ہزار روپیہ ہوگا اور یہ بھی حضرت مصلح موعود کے ذریعہ اللہ کا ایک بہت بڑا معجزہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس کے باوجود احمدیت کوشاندار ترقیات عطا ہوتی رہی ہیں ۱۹۴۵ء تک اگر چہ غیر ممالک میں جماعتیں تو قائم ہو چکی تھیں لیکن انہیں ابھی چندہ دینے کی عادت نہیں پڑی تھی اس لئے یہیں سے خرچ ہوتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہمارے بعض بڑے بزرگ لوگوں نے چار آنے چندہ دیا آپ نے ان کا نام اپنی کتابوں میں لکھ دیا، جس کے نتیجہ میں ان کو قیامت تک جماعت کی دعاؤں کی وجہ سے بھی ثواب ملتا رہے گا مگر چندہ ان میں سے کسی کا چارہ کسی کا آٹھ آنے اور کسی کا ایک روپیہ ماہوار تھا اور ان کا نام لکھ کر انہیں اس لئے اہمیت دی گئی کہ اس وقت امت مسلمہ اسلام کی راہ میں ایک دھیلہ خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔چنانچہ ان کی اس پہلی عادت کے