تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 203 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 203

تاریخ احمدیت۔جلد 26 203 سال 1970ء میں نہیں۔ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بالغ احمدی تو صرف غانا میں ان کی حکومت کی مردم شماری کے لحاظ سے ۱۹۶۰ء میں تھے غانا ویسٹ افریقہ کا ایک ملک ہے اس کے علاوہ کئی دوسرے ملکوں میں بھی بڑی بڑی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔پس جب بھی لوگوں نے ہمارے خلاف شور مچایا، ہماری جماعت مضبوط ہوئی۔چنانچہ ۱۹۵۳ء کے بعد کئی سونئی جماعتیں بنی ہیں۔ہمارے اس علاقے میں بھی ایسی بیسیوں جماعتیں ہیں جو ۱۹۵۳ء کے بعد بنی ہیں۔ایک ایک وقت میں مجھے ایسے ۳ ،۳۔۴۰۴ آدمی یا بعض دفعہ اکٹھی جماعتیں ملتی ہیں جو کہتی ہیں کہ وہ ۱۹۵۳ء کے احمدی ہیں۔احمدیوں کے گھروں کو آگ لگایا کرتے تھے اور Mob میں جا کر شامل ہوتے تھے۔لیکن ایک دن اللہ تعالیٰ نے ان کے دماغ کو جھنجھوڑا اور ان کو خیال پیدا ہوا کہ جس جماعت کی ہم مخالفت کر رہے ہیں۔آؤ پتہ تو کریں یہ جماعت ہے کیسی؟ اس کے عقاید کیا ہیں؟ چنانچہ پہلے اندھیرے میں مخالفت کر رہے تھے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دل میں احمدیت کی کتابیں پڑھنے کی تحریک پیدا ہوئی تو انہیں حق نظر آ گیا اور پھر وہ احمدی ہو گئے پس ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔پختہ ایمان کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بڑی کھلی شاہراہ کھولی ہے۔البتہ انفرادی قربانی ضرور دینی پڑے گی کیونکہ یہ کبھی ہوا ہی نہیں کہ کوئی قوم قربانی دیئے بغیر ترقی کر سکی ہو۔غرض ضبط و نظم کو ضرور قائم کرنا پڑے گا احمدیت کے اندر رہتے ہوئے اطاعت ضرور کرنی پڑے گی اگر تو کوئی ڈکٹیٹر آپ کے اوپر حکم چلا رہا ہو تو پھر تو آپ کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم اس کی کیوں اطاعت کریں؟ لیکن اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا خلیفہ دے جو آپ سے پیار کرنے والا ہو تو اگر آپ اس کی اطاعت سے گھبرائیں تو یہ علاوہ اور بہت سی برائیوں کے جہالت بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بہت بڑے وعدے دیئے ہیں جنہیں ہم ساری دنیا میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔انگریزوں نے ایک وقت میں یہ کہا تھا کہ ان کی وسیع و عریض برٹش کامن ویلتھ پر سورج غروب نہیں ہوتا۔وہ زمانہ ختم ہو گیا۔اب برٹش کامن ویلتھ پر تو سورج غروب ہوتا ہے لیکن جماعت احمدیہ پر سورج غروب نہیں ہوتا