تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 11 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 11

تاریخ احمدیت۔جلد 26 11 سال 1970ء کیں۔جس کے بعد سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا معرکہ آراء خطاب ہوا جس میں حضور نے واضح فرمایا کہ جماعت احمدیہ میں ہزاروں لاکھوں افراد ایسے موجود ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قادرانہ تجلیات کے زندہ گواہ ہیں۔چنانچہ فرمایا:۔بقول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اتنا ز خار ( پانی سے بھرا موجیں مارتا ہوا) سمندر ہے کہ جس کے قطروں کو گنا انسانی طاقت میں نہیں ہے۔ہر صدی میں اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے امت محمدیہ میں پیدا ہوتے رہے اور اللہ تعالیٰ کا پیاران پیاروں کو حاصل ہوتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند عظیم کی حیثیت میں ہم میں مبعوث ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے آپ پر ایمان لانے کی توفیق پائی اور آپ کو ہم نے شناخت کیا۔وہ زندگی بخش پانی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کر کے ہمیں دیا۔اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ میں اس ملک میں بھی اور دنیا کے سب دوسرے ملکوں میں بھی لاکھوں انسان ایسے پیدا ہوئے جن کا ذاتی تعلق محبت ذاتیہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے پیدا ہوا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کو ایسے شناخت کرتے ہیں جس طرح اپنے ماں باپ کو یا اپنی اولا دکو شناخت کرنے والے ہیں۔جس طرح دن کے وقت سورج کا علم حاصل ہوتا ہے۔اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اسی طرح یہ لوگ اپنے رب کو پہچانتے ہیں اور دنیا کے سارے فلسفی ان کے دماغوں کو یہ جھٹکا نہیں دے سکتے کہ وہ اپنے رب کو بھول جائیں یا اس سے تعلق کو قطع کر لیں۔اس کی دوری میں لذت حاصل کریں وہ تو اپنے رب سے دوری کو موت سمجھتے ہیں۔ان میں یورپ کے باشندے بھی ہیں۔ان میں افریقہ کے بسنے والے بھی ہیں۔امریکہ میں رہائش رکھنے والے بھی ہیں۔جزائر کے رہنے والے بھی ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔ہر جگہ احمدیت پہنچی اور ہر جگہ خدا تعالیٰ کی محبوب جماعتیں پیدا ہوئیں۔انہوں نے اپنے رب کی قدرتوں کے جلوے اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کئے۔وہ اس یقین پر قائم ہیں کہ اللہ تعالیٰ ( ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں نہیں ) اپنے فضل سے اپنے ان