تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 181
تاریخ احمدیت۔جلد 26 181 سال 1970ء کے اس مہدی اور مسیح کو مان لیا ہے جس کے لئے آپ نے سلامتی کی دعا کی اور امت کو اس پر سلام بھیجنے کی تاکید فرمائی ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کامل متبع کی حیثیت میں امت مسلمہ کی اصلاح اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کے عظیم الشان کام پر مامور فرمایا ہے۔اس جواب سے وہ بڑے متاثر ہوئے اور ایک احمدی بزرگ سے کہنے لگے کہ وہ بات جو آپ مجھے پندرہ سال میں نہیں سمجھا سکے انہوں نے پانچ منٹ میں سمجھا دی ہے۔اسی مجلس میں حضور نے میجر محمد صفدر صاحب کا کول کی صاحبزادی بشری صفدر صاحبہ کے نکاح کا اعلان فرمایا جو کیپٹن نذیر احمد صاحب ( پسر محمد فریدون خان صاحب شیخ البانڈی ایبٹ آباد ) سے قرار پایا تھا۔حضور نے خطبہ نکاح میں ازدواجی سلسلہ کے حقوق و فرائض پر لطیف پیرایہ میں روشنی ڈالی نیز بتایا کہ یہ کہنا کہ عورت اگر پردہ کرے گی تو وہ معاشرہ کا عضو معطل بن کر رہ جائے گی سراسر بے معنی بات ہے۔عورت پردہ کرتے ہوئے اپنے خاوند کا ہاتھ بٹا سکتی ہے اور اس کے کام میں ممد و معاون بن سکتی ہے۔فرمایا۔منصورہ بیگم مغربی افریقہ کے دورہ میں میرے ساتھ تھیں اور ہزاروں میل کے سفر میں یہ برابر پردہ کرتی رہیں۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں تو صرف مردوں سے مصافحے کرتا تھا افریقن عورتوں سے انہوں نے مصافحے کئے ، ان سے باتیں کیں۔ان کی دلجوئی کی۔انہیں نصائح کیں۔ان سے محبت و پیار کا اظہار کیا اور اس طرح جماعت کے اس حصے کی تسلی و تشفی کا موجب بنیں۔ورنہ یہ حصہ تشنہ رہ جاتا۔ستمبر۔آج حضور نے گذشتہ خطبہ جمعہ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور بشارتوں پر پختہ ایمان اور رضائے الہی کی خاطر جانی اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت واہمیت بیان فرمائی۔۵ ستمبر۔نماز مغرب کے بعد حضور نے مولا ناسیم سیفی صاحب وکیل التعلیم کو دورہ مغربی افریقہ کے بارے میں مجوزہ کتاب کی ترتیب و تدوین کے سلسلہ میں ضروری ہدایات دیں انہیں سید حسنات احمد صاحب کے ساتھ مل کر یہ کام کرنا تھا۔نیز احباب جماعت بالخصوص نئی نسل کو یہ نصیحت فرمائی کہ معاندین احمدیت کے انتہا پسندانہ رویہ کے باوجود ایسے لوگوں کے لئے اپنے دل میں کمال شفقت اور ہمدردی پیدا کریں اور پریشان ہرگز نہ ہوں کیونکہ ہماری تاریخ شاہد ہے کہ مخالفین کی گالیاں ہمیشہ بے اثر اور ان کی دشمنی پر ہر بار صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے۔ستمبر۔نماز ظہر کے بعد حضور نے ایک دوست کی اس تجویز کا ذکر فرمایا کہ افریقہ میں وکیل بھی