تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 171 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 171

تاریخ احمدیت۔جلد 26 171 سال 1970ء دراصل اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق پر ہے بعض دفعہ دنیوی لحاظ سے سر تا پا گند میں ملوث لوگ احمد بیت کی بدولت بچی تو بہ کر کے حقیقی مومن بن گئے۔فرمایا ویسے یہ ضروری ہے کہ جب تک احمدیت کے متعلق پوری طرح انشراح نہ ہو اسے قبول نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے اور بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔انشراح صدر ہونے کی صورت ہی میں انسان ہمارے لئے بھی اور اللہ تعالیٰ نے غلبہ دین کے لئے جو مہم چلائی ہے اس کے لئے بھی مفید وجود بن سکتا ہے۔حضور نے مغربی افریقہ میں قبولیت دعا کے نشانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا یہ سارے نشان دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کے مظہر ہیں۔ہم تو کوئی چیز ہی نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنی ترین خادم ہیں۔البتہ اس بات پر خوش ہیں کہ آپ کے محبوب ترین روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں خدمت دین کا موقع عطا فرمایا ہے اور احمدیت کے ذریعہ عیسائیت کی زبر دست دجالی کاروائیوں کے مقابلہ میں دنیا میں سچی تو حید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم اور اسلام کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔افریقہ میں اسلام کے حق میں بپا ہونے والا یہ عظیم انقلاب اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ ہم یہاں بھی اپنے نقطۂ نظر کی وسیع پیمانے پر اشاعت کریں اور اس سلسلہ میں وہی جوش و خروش دکھا ئیں جس کا میں نے افریقہ میں مشاہدہ کیا ہے اور اس راہ میں اپنی جان کی بازی لگا دینے سے بھی گریز نہ کریں۔کیونکہ یہ ایک سعادت عظمی ہے۔فرمایا۔ہمارے بعض پاکستانی بھائیوں کی طرف سے پچھلے دو چار مہینوں میں عرب ممالک میں ہمارے دوستوں کے خلاف بعض شاخسانے کھڑے کئے گئے۔دیارِ حرم اور دیگر مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے والے احمدی احباب کو قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار کرایا گیا اور پھر یہاں آکر اپنے اس شاندار کارنامے پر داد تحسین بھی حاصل کی جاتی رہی مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر موقعہ پر فضل کیا اور تائید و نصرت فرمائی۔ہمارے دوستوں کی باعزت بریت ہوئی۔فرمایا۔ہم بڑے دھڑتے سے یہ کہتے ہیں کہ ہم غالب آئیں گے یہ ہم اس لئے نہیں کہتے کہ ہمارے اندر کوئی طاقت ہے یا ہمارے اندر کوئی خوبی ہے بلکہ اس لئے کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو حق و صداقت پر ہوگا وہی غالب آئے گا۔پس ہمارے مقابلے میں جھوٹ بولنے کو جزو ایمان بنانے والے غالب نہیں آ سکتے۔سب دوست پیکر اخلاص بنے اس نہایت درجہ