تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 167
تاریخ احمدیت۔جلد 26 167 سال 1970ء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور جس کی ایک جھلک فتح مکہ کے موقعہ پر حضرت بلال کے جھنڈے تلے نظر آئی تھی۔فرمایا۔یہ عظیم انقلاب ہم سے عظیم قربانیاں بھی چاہتا ہے۔ہمیں اس راہ میں مالی اور جانی قربانیاں پیش کرنے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے اور پھر ساتھ ہی یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان قربانیوں کو قبول بھی فرمائے اور انہیں ہمارے لئے مثمر بثمرات حسنہ بنائے۔129 ۱۲ جولائی۔آج ملاقاتوں کا دن تھا مقامی دوستوں کے علاوہ پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، مظفر آباد اور مانسہرہ کے دوستوں نے شرف ملاقات حاصل کیا اور نماز مغرب کے بعد حضور مجلس عرفان میں تشریف فرما ر ہے اور مغربی افریقہ کے حالیہ دورہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ خدا تعالیٰ کی بشارتیں پوری ہونے کے دن قریب آرہے ہیں۔۱۴ جولائی۔قیام ایبٹ آباد کے دوران دید و ملاقات کے شوق میں احباب دیوانہ وار کھنچے چلے آ رہے تھے اور ہر روز شمع خلافت کے عشاق کا تانتا بندھا رہتا تھا لیکن ملاقاتوں کے دن کی شان ہی اور تھی۔۱۴ جولائی بھی ملاقاتوں کے لئے مخصوص تھا۔اس روز ربوہ اور کئی دوسری جماعتوں کے بہت سے احباب تشریف لائے۔ان کے علاوہ ڈاکٹر مرزا عبدالرؤف صاحب امیر جماعت احمد به ت احمد یہ کیملپور اور مولوی عطاء الکریم شاہد صاحب مربی سلسلہ بھی ساٹھ ، ستر احباب کے ساتھ جن میں چند مستورات اور بچے بھی شامل تھے قافلے کی صورت میں ایک پیشل بس کے ذریعہ پہنچے۔حضور نے دس سے سوا گیارہ بجے تک انفرادی ملاقات کا موقع عطا فرمایا۔اس کے بعد کوٹھی سے باہر تشریف لائے جہاں ایک ملحقہ گراسی پلاٹ میں ایک شامیانے کے نیچے کیملپور کے مخلص احباب اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لئے سراپا انتظار بیٹھے تھے۔سب نے باری باری حضور سے مصافحہ کیا حضور نے پانچ سات سال کے ننھے منے بچوں کو پیار کیا۔ایبٹ آباد میں حضور سے اجتماعی ملاقات کا اولین شرف جماعت کیملپور نے حاصل کیا۔اپنے ان عشاق کے دید و قلب کی مزید سیری کے لئے حضور قریباً ایک گھنٹہ تک تشریف فرما رہے اور اپنے سفر مغربی افریقہ کے متعدد واقعات اور تاثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ منصورہ بیگم نے اس دورہ میں بڑا کام کیا ہے ورنہ وہاں کی عورتیں تشنہ رہ جاتیں کیونکہ وہاں کی عورتوں کو مردوں سے مصافحہ کرنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اور ابھی ان کی اتنی تربیت نہیں ہو سکی کہ وہ مردوں ނ مصافحہ نہ کریں میں تو صرف مردوں سے مصافحہ کرتا تھا عورتوں سے مصافحہ منصورہ بیگم کرتی تھیں۔میں