تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 152 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 152

تاریخ احمدیت۔جلد 26 152 سال 1970ء ہوتی ہے۔اس شہر میں مسلمان بھی رہتے ہیں۔جب میں مراکش کی سرحد پر پہنچا تو مراکشی حکام نے مجھے سرحد عبور کرنے کی اجازت ہی نہ دی۔اپنے حلیہ اور وضع قطع سے میں انہیں ایک بہتی نظر آیا اس لئے انہوں نے مجھے دھتکار دیا۔میں نے انہیں قرآن مجید کا نسخہ دکھایا جس میں عربی آیات کے بالمقابل ان کا جرمن ترجمہ درج تھا۔نیز انہیں یہ بھی بتایا کہ میں راستہ بھر سورۃ الفاتحہ کا ورد کرتا آیا ہوں اور خدا کے فضل سے مسلمان ہوں۔لیکن انہوں نے سب کچھ سننے کے باوجود میری ایک نہ سنی اور مجھے مسلمانوں کی سرزمین میں قدم نہ رکھنے دیا۔اپنی اس ناکامی پر مجھے بے حد افسوس ہوا۔میں نے اپنی گناہ آلود زندگی پر پھر ایک نظر ڈالی۔اپنے گناہوں کو یاد کر کر کے میں یہی سوچتا رہا کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ ایک اسلامی ملک میں داخل ہو سکوں۔میں نے شہر میں واپس آکر کوئی مسجد تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ میں وہاں خدا کی عبادت کر کے خدا سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرسکوں۔ایک بچہ نے مجھے مسجد کا راستہ بتایا۔جب میں وہاں پہنچاتو دیکھا کہ مسجد کی دیوار پر ایک بورڈ آویزاں ہے اور اس پر لکھا ہوا ہے کہ ”غیر مسلموں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں“۔میں نے سوچا کہ میں تو مسلمان ہوں اس لئے اس ممانعت کا مجھ پر اطلاق نہیں ہوتا۔چنانچہ میں بے دھڑک مسجد کے اندر چلا گیا۔وہاں اور کوئی شخص موجود نہ تھا۔میں نے تسلی سے وضو کیا اور مسجد کے مسقف حصہ میں جا پہنچا۔یہ سہ پہر کا وقت تھا۔میں نے چار رکعت نماز کی نیت باندھی اور عبادت میں محو ہو گیا۔نماز کے دوران مجھ پر کچھ ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں نے زور زور سے رونا شروع کر دیا اور اس قدر رویا کہ اتنا میں پہلے کبھی نہیں رویا تھا۔سیل رواں کی طرح بہنے والے آنسوؤں سے میرے رخسار بھیگ گئے۔میں اسی حالت میں پوری محویت سے نماز پڑھتا رہا۔میں سجدہ میں پڑا آہ وزاری کر رہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے جو اس دوران مسجد میں آ موجود ہوا تھا میرا مونڈھا پکڑ کر بری طرح جھنجھوڑا۔اس نے کوشش کی کہ میں نماز درمیان میں چھوڑ کر وہاں سے چلا جاؤں۔یہ امر میری سمجھ سے بالا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور نماز جاری رکھی اور اس وقت تک جاری رکھی جب تک کہ میں نے چار رکعتیں پوری کر کے باقاعدہ سلام نہ پھیر لیا۔سلام پھیرنے کے بعد میں اس آدمی کی طرف متوجہ ہوا۔اس نے مجھے پیچھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔دروازہ پر پہنچ کر اس نے مجھے دھکیلتے ہوئے باہر نکال دیا۔مغرب کی نماز کا وقت قریب آرہا تھا اور کچھ مسلمان وہاں آنے شروع ہو گئے تھے۔میں نے انہیں جرمن ترجمہ قرآن کا اپنا نسخہ دکھایا اور انہیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ میں مسلمان ہوں اور ان کے