تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 148
تاریخ احمدیت۔جلد 26 148 سال 1970ء ”خدا“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میری بیقرار روح کے اندر پوشیدہ تھی۔غالباً اسی لئے میں نے اپنے جسم کو کپڑوں سے مبرا کرتے وقت گلے میں پڑی ہوئی مالا کوا تار نہیں پھینکا۔اُس وقت مجھ پر ایک عجیب کیفیت وارد ہوئی۔دوڑتے دوڑتے میں یکدم رک گیا۔میں خود نہیں رکا بلکہ یوں لگا جیسے بجلی کے ایک جھٹکے نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا۔میں بے حس و حرکت بالکل ساکت کھڑا تھا۔اسی حالت میں میں نے ایکا ایکی آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور بے اختیار ایک فقرہ پکار کر کہا۔وہ جسم کی نہیں بلکہ روح کی پکار تھی۔کہا میں نے یہ کہ اے اللہ ! تو فضل فرما اور مجھے آلائشوں سے پاک کر دے“۔اس وقت تک اللہ کا لفظ میرے لئے ایک اجنبی لفظ تھا۔میں نہیں جانتا تھا کہ اللہ سے کیا مراد ہے اور نہ اسلام کے بارہ میں مجھے کچھ پتہ تھا الا یہ کہ سکول کے اساتذہ نے کسی زمانہ میں بعض لا یعنی سی باتیں اسلام کے متعلق بتائی تھیں اور ان میں سے بھی اکثر میرے ذہن سے نکل چکی تھیں۔کسی مسلمان کو میں جانتا تک نہ تھا اور نہ میں نے اُس وقت تک اپنی باطنی حالت اور کشمکش کا کسی سے ذکر کیا تھا۔اس کے باوجود میرے ساتھ یہ عجیب وغریب واقعہ پیش آیا کہ اچانک میرے منہ سے ایک ایسا کلمہ نکلا جس کا پورا مفہوم میں نہیں جانتا تھا۔عجیب نامعلوم سی کیفیت تھی میری۔اس وقت یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں نہیں بول رہا بلکہ میری زبان سے کوئی اور بول رہا ہے۔احساس کچھ یہ تھا کہ یہ الفاظ کہ اے اللہ ! فضل فرما اور مجھے آلائشوں سے پاک کر دے الہام کی طرز کے الفاظ ہیں جو فقرہ میری زبان سے ادا ہوا وہ جر من الفاظ پر مشتمل تھا۔جب میری زبان سے حالت اضطراری میں یہ دعائیہ الفاظ ادا ہوئے تو اس کے معا بعد مجھے بانسری کی بہت ہی ملائم، خوش گن اور سرور آگیں نغمگی سنائی دی۔محسوس یوں ہوا جیسے یه سریلی آواز قرب و جوار میں واقع پہاڑوں کی سمت سے آ رہی ہے۔اس وقت مجھے دلجوئی کے انداز کی حامل تسلی اور اطمینان کی ایک عجیب کیفیت محسوس ہوئی۔اس طرح پُرسکون ہونے کے بعد میں راستہ میں چھوڑے ہوئے کپڑے پہن کر موٹر کی طرف واپس لوٹ آیا۔اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ فی الحقیقت میرے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا آئینہ دار تھا۔یہ صحیح ہے کہ ظاہری اعتبار سے فوری طور پر تو میں اسلام میں داخل نہیں ہوا کیونکہ اس وقت تک میں اسلام کے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ معلوم تھا کہ اسلام قبول کرنے کا طریق کیا ہے اور یہ کہ اس کے لئے کن شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے تاہم میرے قبولِ اسلام کی ابتداء اس عجیب و غریب واقعہ سے ہو چکی تھی۔اس کے بعد مجھے کئی ماہ تک خوف و خطر کے حالات میں سے گزرنا اور مصائب