تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 4
تاریخ احمدیت۔جلد 26 4 سال 1970ء صدر تجویز کر کے میرا نام صدارت کے لئے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھجوا دیا۔مجلس خدام الاحمدیہ میں جو کام کرنے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی اس کے نتیجہ میں میں احمدی نوجوان سے اس طرح واقف ہوا کہ جو واقفیت کسی اور ذریعہ سے نہیں ہو سکتی تھی اور جو قدرو قیمت ایک احمدی نوجوان کی میں پہچانتا ہوں شاید ہی کوئی اور ہو جو اس قدرو قیمت کو پہچانتا ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر چہ میری طبیعت کا کوئی پہلو بھی اس وقت صدارت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن جو کام میرے سپرد کیا گیا اس کے نتیجہ میں مجھے انتظامی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی بہت فائدہ حاصل ہوا۔اس وقت کی مجلس عاملہ کے اراکین میں سے ایک رکن ( مکرم مولوی ظہور حسین صاحب) کے بیٹے (نعیم احمد صاحب طاہر ) کے نکاح کا اعلان اس وقت ہو رہا ہے۔میرے دوسرے محسن محترم چوہدری فتح محمد صاحب سیال ہیں۔جب میں انگلستان سے واپس آیا تو عمر کے لحاظ سے میں چھوٹا تھا اور گو تبلیغ کا جوش تو تھا لیکن تجربہ کوئی نہ تھا۔محترم چوہدری صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مقامی تبلیغ کے دوروں پر جب بھی فرصت ہو، جایا کرو۔چنانچہ میں نے ان کے ساتھ تبلیغی دوروں پر جانا شروع کر دیا۔اس سے ایک تجربہ تو مجھے یہ حاصل ہوا کہ ایک عام دیہاتی مسلمان چاہے وہ کسی فرقہ سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو طبیعت کا سادہ اور سعادت مندی کی روح اپنے اندر رکھتا ہے اگر صحیح طریق پر اس کے لیول (Level) اور اس کے مقام پر آکر بات کی جائے تو وہ بہت جلد اسے سمجھ لیتا ہے۔دوسرا بڑا فائدہ ان تبلیغی دوروں سے یہ ہوا کہ میری اپنی طبیعت میں فطرتی طور پر دیہات میں رہنے والوں سے جو لگاؤ تھا اس فطری جذبہ کو تجربہ کے ذریعہ ابھرنے کی توفیق ملی اور اپنے احمدی بھائیوں کی فراست اور علم نے باوجود ان کے ان پڑھ ہونے کے میری طبیعت پر بڑا گہرا اثر کیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سٹھیالی ( نزد قادیان) کے ایک احمدی دوست تھے جو سٹھیالی کے لحاظ سے اچھے زمیندار تھے اور عادتاً سفید پوش تھے اب وہ فوت ہو گئے ہیں۔وہ احمدیت اور اسلام کا اتنا گہرا علم رکھتے تھے کہ ایک جلسہ کے موقع پر بعض