تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 101 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 101

تاریخ احمدیت۔جلد 26 101 سال 1970ء ادا کیا ہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں جنرل موصوف نے ان کو بہت سراہا۔انہوں نے فرمایا روحانی میدان میں خدمات بجالانے کے علاوہ آپ نے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے کر تعلیمی میدان میں بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔آپ کی جماعت سکولز اور طبی مراکز قائم کر کے اہل نائیجیریا کی امنگوں کا ساتھ دیتے ہوئے ان کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم عمل ہے۔سر براہ مملکت نے گزشتہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحران کے دوران فیڈ رل حکومت کو ان بے گناہ اور بے قصور لوگوں کے مصائب کا بہت شدید احساس تھا جن بے چاروں کو گمراہ کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا ہم نے اپنے اقتدار کے نقطۂ نگاہ سے نہ کبھی سوچا اور نہ کبھی کوئی اقدام کیا کیونکہ ہمیں شدت سے احساس تھا اور ہے کہ ایک ہستی ایسی ہے جو بے انتہا طاقتور اور قادر و مقتدر ہے اور وہ ہے ہمارا خالق و مالک یعنی ہمارا خدا۔ہم امید رکھتے ہیں کہ بعد میں آنے والے لیڈر بھی انہی خطوط پر سوچیں گے اور پوری وفاداری کے ساتھ عوام کی خدمت بجالانے کو اپنا طمح نظر بنائیں گے۔اور اپنے دل و دماغ میں اس خیال کو کبھی نہ آنے دیں گے کہ عوام ان کی خدمت کریں۔حضرت مرزا ناصر احمد نے گفتگو کے آغاز میں صورتحال پر قابو پانے اور حالات کو سدھارنے میں - صدر مملکت کے صبر و تحمل اور دانشمندی و تدبر کو سراہا تھا آپ نے فرمایا:۔نائیجیریا میں بحران کے دوران ہم حالات و واقعات کا بہت دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کرتے رہے ہیں۔آپ نے اپنی قوم کی بہت بر وقت اور مناسب راہنمائی کی ہے۔۔۔66 حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے مزید فرمایا:۔میں دیکھتا ہوں جنگ کے ختم ہونے کے بعد ہر شخص خوش ہے۔اس کا واضح ثبوت وہ مسکراہٹ ہے جو مجھے یہاں ہر چہرہ پر کھیلتی ہوئی نظر آئی ہے اور جنگ کے بعد رونما ہونے والی تلخی کا کوئی نشان میں نے نہیں دیکھا۔حالانکہ دوسری جنگوں میں کوئی نہ کوئی تلخی بعد میں بھی باقی رہتی اور اپنا اثر دکھاتی رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس عظیم قوم کے قائد کی حیثیت سے ہم آپ کی مساعی کے مداح ہیں۔98 ۱۳ اپریل ۱۹۷۰ء کو حضور نے نائیجیریا کے شہر ابادان میں ملک کے نامور