تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 178
تاریخ احمدیت۔جلد 25 178 سال 1969ء آیا اور اس نے ہمیں اپنے احاطہ میں لے لیا اور ہمیں تکلیفوں اور دکھوں سے بچایا اور ایسی لذت اور سرور کے سامان پیدا کئے کہ دنیا اس سے ناواقف ہی نہیں اس کی اہل بھی نہیں ہے۔پس اپنے ماحول کو دیکھو۔جو موقع اللہ تعالیٰ نے آج آپ کو دیا ہے اس کو سمجھو۔خدا تعالیٰ نے آپ سے پیار کیا ہے کہ آپ کو احمدیت میں داخل کیا یا پیدا کیا یہ اللہ تعالیٰ کے پیار کا ایک مظاہرہ ہے اور خدا نے کہا ہے کہ اگر تم میرے اس پیار کو شکر کے جذبات کے ساتھ اور شکر کے بولوں کے ساتھ اور شکر کے عملوں کے ساتھ قبول کرو گی تو اس سے کہیں زیادہ پیار تم حاصل کرو گی۔خدا کرے کہ میں اور آپ خدا تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والی ہوں مجلس خدام الاحمد سی اور مجلس انصاراللہ کے علم انعامی 160- اس سیال مجلس خدام الاحمدیہ ڈرگ روڈ کراچی اور مجلس خدام الاحمدیہ لائل پور (فیصل آباد) کو علم انعامی کا مستحق قرار دیا گیا اور کارگزاری کے اعتبار سے مجلس خدام الاحمد یہ سرگودھا دوم اور مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سوم قرار پائی۔چنانچہ ۲۷ دسمبر کے اجلاس دوم کے آغاز میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے دست مبارک سے قائد مجلس ڈرگ روڈ عبدالشکور صاحب اسلم اور قائد مجلس لائل پور (فیصل آباد) سید مشتاق احمد صاحب ہاشمی کو علم انعامی عطا فرمایا اور مجلس سرگودھا اور مجلس کراچی کوسندات خوشنودی عطا فرمائیں۔اس کے بعد حضور نے مجلس انصار اللہ لائل پور کے زعیم اعلیٰ قریشی افتخار علی صاحب کو بھی علم انعامی مرحمت فرمایا۔کیونکہ مجلس انصاراللہ لائل پور اس سال جملہ مجالس انصاراللہ میں اول قرار پائی تھی۔خدائی نصرتوں کا حقیقت افروز تذکرہ مجالس کو علم انعامی عطا فرمانے کے بعد حضرت خلیفہ المسح الثالث نے اپنے نہایت بصیرت افروز خطاب میں خدا تعالیٰ کے ان افضال، تائیدات اور نصرتوں کا تذکرہ فرمایا جن سے اللہ تعالیٰ نے ۱۹۶۹ء میں عالمگیر جماعت احمدیہ کونوازا اور ساتھ ہی یہ بیان فرمایا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے جو فضل نازل ہوتے ہیں ہم ان کا اظہار اس لئے نہیں کرتے کہ ہمیں ان پر کوئی فخر ہے کیونکہ دنیا بھی جانتی ہے اور ہم