تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 74
تاریخ احمدیت۔جلد 25 74 سال 1969ء ہیں۔قریباً تین سال قبل ایک پر خلوص تخیل دماغ میں پیدا ہوا۔اس تخیل کو جماعت نے اللہ تعالیٰ کی تحریک سے اپنایا اور یہ فیصلہ ہوا کہ اس روحانی درخت کی بلوغت پر تین سال کا عرصہ خرچ ہوگا۔وہ تین سال گذررہے ہیں اور درخت پھل دینے کے قابل ہو گیا ہے۔خیال تھا کہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے جماعت پچیس لاکھ روپیہ جمع کرے۔اس وقت اٹھائیس لاکھ ترپن ہزار روپیہ کی رقم جمع ہو چکی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ مزید کئی لاکھ روپیہ بھی اس عرصہ کے اندر اور جمع ہو جائے گا۔درخت ،جیسا کہ درختوں کو جاننے والے جانتے ہیں پھل دینے پر آتا ہے تو شروع میں تھوڑی تعداد میں پھل اسے لگتے ہیں اسی طرح اس درخت کو چار پھل تو آج لگے ہیں اور آپ نے ان کی خوشبو کو تھوڑا سا سونگھا ہے یعنی چار مقالے فضل عمر فاؤنڈیشن کی سکیم اور ہدایت کے مطابق لکھے جاچکے ہیں جن کے متعلق امید کی جاتی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کو اسلامی نقطہ نگاہ سے فائدہ پہنچانے والے ہوں گے۔اس وقت تک دو میدانوں میں ہمارا غیر سے مقابلہ ہے۔ایک علمی میدان ہے اور ایک تائیدات سماوی کا میدان ہے۔تائیدات سماوی کے لئے کچھ اور قسم کے مجاہدات کرنے پڑتے ہیں اور اس مادی دنیا میں مادی وسائل سے کام لے کر علمی میدانوں میں جو کام کیا جاتا ہے اس کے لئے ایک اور قسم کا مجاہدہ درکار ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں، تقریروں اور ملفوظات میں علم کے اس قدر وسیع سمندر ہیں کہ اگر ہم ان سمندروں کے حسن اور افادیت کو سمجھیں اور انہیں مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے دیکھیں اور اس طرح پر دنیا کے سامنے علمی تحقیق پیش کریں تو ساری دنیا مل کر بھی جماعت احمدیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن اس کام کی طرف جماعت کو ایک عرصہ سے اتنی توجہ نہیں ہو رہی تھی جتنی توجہ ہونی چاہیے تھی۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے جماعت کو توجہ دلائی ہے۔کام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے ورنہ چار مقالے تو کیا چارسومقالے بھی میں سمجھتا ہوں ہماری علمی ضروریات کے لئے کافی نہیں ہیں یعنی اس ضرورت کے لئے کافی نہیں ہیں کہ ہم دنیا پر یہ ثابت کریں کہ جو علوم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رکھے ہیں ان علوم کا ساری دنیا بھی مل کر مقابلہ نہیں کر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب تحریروں اور ملفوظات میں قرآن کریم کی تفسیر ہی ہے۔حضور نے یہ انقلابی نقطہ بیان فرمانے کے بعد خاصی تفصیل سے علمی تحقیق کے اسلامی معیار اور اصولوں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ بالخصوص مغربی دنیا میں تحقیق کے بہت سے غلط اصول راہ پاچکے ہیں۔جو صحیح اقدار پیش کئی گئی ہیں انہیں اپنانے اور ان سے استفادہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ان سے بھی