تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 73 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 73

تاریخ احمدیت۔جلد 25 73 سال 1969ء المسیح الثالث نے بھی شمولیت فرمائی۔تلاوت اور نظم کے بعد مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن نے مقابلہ تصانیف برائے ہش ۱۹۶۷/۱۳۴۶ء کے کوائف پر مشتمل رپورٹ سنائی۔رپورٹ کے آغاز میں آپ نے بتایا کہ صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے نے وہ تمام متبرک خطوط حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی خدمت میں پیش کر دیئے ہیں جو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صوفی صاحب کے والد ماجد حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمائے تھے۔ادارہ نے ان مبارک خطوط کو ایک نہایت مضبوط اور خوبصورت البم میں محفوظ کر دیا ہے۔اس ذکر کے معا بعد کرنل محمد عطاء اللہ صاحب نائب صدر فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضور کی خدمت میں یہ البم پیش کیا۔حضور نے احباب کو بھی اس کی زیارت کرائی اور ہدایت فرمائی کہ یہ الہم فی الحال خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں محفوظ کر دیا جائے۔جب فضل عمر فاؤنڈیشن کی لائبریری میں اس قسم کے نوادرات کے لئے مناسب انتظام کیا جائے تو اسے وہاں رکھ دیا جائے۔(اس ہدایت کی تعمیل میں یہ متبرک البم خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ کر دیا گیا۔) ازاں بعد شیخ مبارک احمد صاحب نے رپورٹ جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ مقابلہ تصانیف برائے ہش ۱۳۴۶ء میں کل سینتیس مقالے موصول ہوئے جن میں سے صرف سولہ مقالے ابتدائی جائزہ کے بعد منصفین کی رو سے لئے جانے قرار پائے۔ان سولہ مقالوں کے متعلق تین منصفین کے تفصیلی جائزہ کی روشنی میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حسب ذیل چار اصحاب کو انعام کا مستحق قرار دیا: اول - شیخ عبد القادر صاحب محقق عیسائیت (اسماء الانبياء في القرآن) دوم - قریشی محمد اسد اللہ صاحب مربی سلسلہ (عیسائیوں اور مسلمانوں کی کشمکش کی تاریخ) سوم۔حافظ محمد احق صاحب خلیل مقیم سوئٹزر لینڈ ( مسلمان سلاطین ہند کے متعلق جبری اشاعتِ اسلام کی روایات کا تنقیدی مطالعہ ) چہارم۔پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب ربوہ (سمندر اور اس کے عجائبات ) رپورٹ کے اختتام پر شیخ صاحب نے حضور کی خدمت میں ان اصحاب کو اپنے دستِ مبارک سے انعامات کی رقوم عطا فرمانے کی درخواست کی۔چنانچہ حضور نے ان خوش قسمت اہلِ قلم اور مقالہ نگاروں کو اپنے دست مبارک سے ایک ایک ہزار روپے کے نقد انعامات عطا فرمائے اور پھر ایک بصیرت افروز خطاب سے نوازا۔حضور نے فرمایا کہ آج کے دن اللہ تعالیٰ کی حمد سے ہمارے دل معمور