تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 65 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 65

تاریخ احمدیت۔جلد 25 65 سال 1969ء حضرت خلیفة اسبح الثالث کا انقلاب انگیز انتقامی خطاب حضرت خلیفہ المسح الثالث نے مجلس مشاورت سے اپنے اختتامی خطاب میں فرمایا:۔میں نے ایک خطبہ میں بتایا تھا کہ ہم وہ جماعت ہیں جو ظلم کے تسلسل کو کاٹ دیتی ہے۔جب ہم پر ظلم ہوتا ہے اور ہم جواب میں ظلم نہیں کرتے۔ایک بند ہے جہاں ظلم ٹکراتا ہے اور پسپا ہو جاتا ہے۔آگے نہیں ہم جانے دیتے اور ہم نے کیا سمجھنا اور کیا سوچنا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ جماعت نے نہایت وفا کا نمونہ اپنے رب سے دکھایا بڑے مشکل حالات میں۔ہماری زندگی اس بات میں ہے کہ ہم خود کو زندہ نہ سمجھیں ، ہماری بقا اور حیات کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ ہم نہ زندہ ہیں نہ باقی ہیں جب تک اللہ تعالیٰ جو حی و قیوم ہے اپنی حیات سے ہمیں سہارا نہ دے اپنی قومیت سے ہمیں سہارا نہ دے۔کچھ تھوڑے تھوڑے وقتی طور پر آج کل صبح و شام خدا کے فضل ہمیں نظر آتے ہیں کچھ مستقل فضل اور نعمتیں ہیں جو ہمیں حاصل ہیں وہ بھی ہماری سامنے آنی چاہئیں اور جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا قرآن کریم میں کہ میں نے اپنی نعمتیں پانی کی طرح تمہارے لئے بہا دی ہیں تو اسی لئے کہا کہ میرے شکر گزار بندے بنو۔ان نعمتوں کا احساس ہونا چاہیے اور اس احساس کو زندہ اور بیدار رہنا چاہیے۔میں نے پچھلے ۲۰ سال کا جائزہ لیا۔مختلف ادوار سے ہم گذرے ہیں ان میں سالوں میں یعنی ۵۰ ء سے لے کر ۶۹ ء تک قریباً ۲۰ سال میں بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ نے ایثار اور قربانی کے جذبات پر اپنی نعمتوں کی بارش کس رنگ اور کس طور پر کی ہے تو میں بھی حیران ہوا اور آپ بھی حیران ہوں گے کہ ہمارے ایثار اور قربانی میں معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ کے فضل نے ترقی دی اور اسے بڑھایا۔بعض چیزیں تو روحانی اور مذہبی دنیا میں ایسی ہیں جن کو مادی پیمانوں سے ناپا نہیں جاسکتا نہ تولا جاسکتا ہے۔لیکن بعض مادی پیمانے بھی ہیں جن سے غیر مادی روحانی اور اخلاقی تبدیلیوں کا تنزل کی طرف ہوں یا ترقی کی طرف ہوں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس قسم کے پیمانوں