تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 61
تاریخ احمدیت۔جلد 25 61 سال 1969ء (1) انعامی شق نمبرا میں مکرم شیخ عبد القادر صاحب محقق لاہور کا مقالہ ”اسماء الانبیاء فی القرآن (۲) انعامی شق نمبر ۲ میں مکرم محمد اسحاق صاحب خلیل کا مقالہ بعنوان ”مسلم سلاطین ہند کے متعلق جبری اشاعت اسلام کی روایات کا تنقیدی جائزہ (۳) انعامی شق نمبر ۳ میں مکرم قریشی محمد اسد اللہ صاحب کا شمیری مربی سلسلہ احمدیہ کا مقالہ بعنوان عیسائیوں اور مسلمانوں کی کشمکش کی تاریخ (۴) انعامی شق نمبر ۵ میں مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب ربوہ کا مقالہ بعنوان سمندر اور اس کے عجائبات کمیٹی کی یہ سفارش فضل عمر فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پیش ہوئی۔بورڈ نے اس سفارش کو منظور کرتے ہوئے مندرجہ بالا چار اصحاب کو ان کے مقالوں پر ایک ایک ہزار روپیہ انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے اور تقسیم انعام کے لئے سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی خدمت میں درخواست کی ہے۔حضور نے اپنے دست مبارک سے ان چاروں دوستوں کو ان کی اعلی علمی تصانیف پر انعام دینا منظور فرمایا ہے۔۱۹۶۸ء کے لئے بھی اعلامیہ کی اشاعت کی گئی تھی۔پروگرام یہ ہے کہ ہر سال پانچ انعامات اعلیٰ تصنیفات پر دئے جائیں۔۱۹۶۸ء کے اعلامیہ پر دو درجن کے قریب احباب نے مقالے بھجوانے کی اطلاع دی تھی۔لیکن بعض نے اپنے اس ارادے کو اگلے سال پر ملتوی کر دیا ہے۔۱۹۶۹ء کا اعلامیہ بھی شروع سال میں شائع ہو چکا ہے۔جماعت کے اہل قلم ، سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ اور پروفیسر صاحبان، علماء سلسلہ اور مبلغین کرام کو بالخصوص اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جلسہ سالانہ ۱۹۶۸ء کے اجتماع پر اس طرف توجہ دلائی اور فرمایا تھا کہ یہ مقابلہ ہر سال ہونا چاہیے۔۱۹۶۸ء کے جو مقالے موصول ہوئے ہیں ان کے جائزہ کی کارروائی شروع کی جارہی ہے۔میں اس موقع پر ان تمام منصفین کرام کا فاؤنڈیشن کی طرف سے شکر گزار ہوں جنہوں نے باوجود گونا گوں مصروفیات کے فاؤنڈیشن کے اس پروگرام میں دلی محبت سے تعاون فرمایا۔جزاھم اللہ احسن الجزاء چہارم۔مقاصد کے سلسلہ میں طویل المیعاد منصوبہ میں لائبریری کو خاص طور ترجیح دی گئی۔حضرت فضل عمر کی یہ شدید خواہش تھی اور آپ نے لائبریری کی اہمیت ، ضرورت اور افادیت پر ایک زبر دست تقریر ۱۹۵۳ء کی شوریٰ میں فرمائی تھی اور جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ایک مکمل لائبریری کا ہونا