تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 60
تاریخ احمدیت۔جلد 25 60 سال 1969ء سیف الرحمن صاحب اس حصہ کو ہر طرح مکمل اور صاف کروا کے نظر ثانی اور مزید چھان بین کے لئے انشاء اللہ فاؤنڈیشن کے دفتر میں بھجوا دیں گے۔(۳) تیسرا اہم کام جو فضل عمر فاؤنڈیشن کی زیر نگرانی انجام دیا جارہا ہے وہ تحقیقی اور علمی دینی مضامین پر مشتمل عمدہ رسائل و کتب کی تصنیف ہے۔اس غرض کے لئے فاؤنڈیشن نے ضروری شرائط و قواعد کے ساتھ ایک اعلامیہ شائع کر رکھا ہے۔جس میں حضرت فضل عمر کی اس خواہش کی تکمیل کا انتظام ہے جو علمی تصانیف کے بارہ میں تھی۔پہلے سال کے اعلامیہ کے شائع ہونے پر ۳۷ مقالے موصول ہوئے جن کی فہرست گزشتہ سال آپ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی۔ان مقالوں کا حسب قواعد جائزہ لیا گیا ان میں سے اکیس مقالوں کے متعلق منصفین کی رائے تھی کہ یہ انعامی مقابلہ میں رکھے جانے کے قابل نہیں ہیں چنانچہ اس ابتدائی جائزہ کے مطابق یہ مقالے انعامی مقابلہ سے خارج قرار دیئے گئے۔باقی سولہ مقالوں کے ابتدائی جائزہ میں ۱۶ منصفین نے یہ رائے دی کہ یہ مضامین عمدہ ہیں اور مقابلہ میں رکھے جانے کے قابل ہیں۔ان مقالوں میں سے ہر ایک مقالہ کے لئے پہلے منصفین کے علاوہ دو دو اور منصف مقرر کئے گئے اس طرح ان تمام مقالہ جات کے تفصیلی جائزہ کی غرض سے ۴۸ منصف مقرر ہوئے جن سے استحقاقی نمبروں کی تعیین کروانے کے علاوہ سیہ رائے طلب کی گئی کہ مقالہ جات کا معیار ان کی افادیت جماعت کی نمائندہ تصنیف ہونے کے لحاظ سے اور زبان اور تحقیق کے لحاظ سے کیسا ہے۔ہر ایک پہلو کو مدنظر رکھ کر منصفین حضرات نے استحقاقی نمبر معین کئے اور تفصیلی آراء بھی پیش کیں۔ان سولہ مضامین کا نتیجہ مرتب کیا گیا۔ادارہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے انعام کے استحقاق کے متعلق سفارش کرنے کے لئے ایک کمیٹی محترم قاضی محمد اسلم صاحب کی صدارت میں مقرر کی۔اس کمیٹی نے محمد عطاء اللہ صاحب اور سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن کی موجودگی میں مورخہ ۲۳ فروری کو لاہور میں محترم قاضی صاحب کے مکان پر ان مقالوں ، ان کے منصفین کی آراء اور نتائج پر مشتمل کا غذات کا تفصیلی جائزہ لیا۔مقالہ جات کی تقسیم اعلامیہ میں مقرر شدہ شقوں کے لحاظ سے معین گی۔یعنی یہ کہ کوئی مقالہ انعامات کی کون سی شق میں آتا ہے۔اس تقسیم میں مقررہ پانچ شقوں میں سے چارشقوں میں مقالہ جات تقسیم ہوئے۔ایک شق کے لئے کوئی مقالہ نہ پایا گیا۔اس لئے کمیٹی نے مندرجہ ذیل شقوں میں ہر شق کے مقابل درج شدہ مقالوں کو انعام کے مستحق قرار دینے کی سفارش کی۔