تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 43
تاریخ احمدیت۔جلد 25 43 سال 1969ء تحصیل علم کی سعادت پاتے رہے اور یہی ہمارے تعلیمی ادارہ جات کا طرہ امتیاز ہے۔تعلیم الاسلام کالج ، جامعہ نصرت اور دیگر تعلیمی ادارہ جات کے نتائج اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اعلیٰ رہے۔جامعہ احمدیہ تحریک جدید کے زیر انتظام ہے۔البتہ اس کا نصف خرچ صدرانجمن احمد یہ برداشت کرتی ہے۔سال رواں میں ایک منظور شدہ طبیہ کالج کا اجراء بھی کیا گیا ہے اور اس کا نصف خرچ بھی صدرانجمن احمدیہ کے ذمہ ہوگا۔ضیافت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لنگر خانہ دورانِ سال خدا کے فضل سے حضور کے مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہا۔چنانچہ آخر تبلیغ ( فروری) تک ۱۴۳، ۶۷ ، ارکس نے کھانا کھایا۔خزانہ چندہ کی وصولی اور امانت کا انتظام اس صیغہ کے ذمہ ہے۔چنانچہ روزمرہ کے آمد و خرچ کی اطلاع متعلقہ دفاتر کو مہیا کی جاتی رہی۔بیرون سے وصول شدہ رقوم کی رسیدات کا بھجوانا، ترسیل رقوم بذریعہ منی آرڈر، بیمہ یا بنک اور بلوں کی ادائیگی کے فرائض احسن طریق پر سرانجام دیتارہا۔امانت کے رقعہ جات ۶۲۸، ۷ پاس کئے گئے اور ۶ ۷ اجدید حساب کھولے گئے۔اس صیغہ کے ذمہ صدرانجمن احمدیہ کی کل آمد وخرچ کا مکمل حساب روزانہ رکھنا ہے۔بہشتی مقبره سال رواں میں ۲۲۴ نئی وصایا ہو چکی ہیں۔جن سے حصہ آمد میں ۱۸،۰۸۴ روپے سالانہ اور حصہ جائداد میں ۱،۴۹،۹۶۲ روپیہ صدرانجمن احمدیہ کو قابل ادا ہو گا۔اس سال فیصلہ ہوا کہ موصیوں کی تدفین کے اخراجات ان کے ورثاء سے نہ وصول کئے جائیں بلکہ صدر انجمن ادا کرے۔اس غرض کے لئے ایک نئی مد تدفین“ قائم کی گئی ہے۔نظارت صنعت و تجارت بے روزگاری دور کرنے کی اہمیت واضح کرنے کے لئے اخبارات میں اعلانات کرائے گئے۔