تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 34 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 34

تاریخ احمدیت۔جلد 25 34 سال 1969ء مرزا صاحب کی وفات پر حکیم نورالدین صاحب کو جو آپ کے فرمانبردار اور بچے ساتھی تھے جماعت کا پہلا خلیفہ چنا گیا۔باوجود یہ کہ بانی جماعت کی شخصیت کا خلاء موجود تھا۔۔۔پھر بھی آپ کی قیادت میں جماعت نے کافی ترقی کی۔۱۹۱۴ء میں پہلے خلیفہ کی وفات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد جو مرزا غلام احمد صاحب کے بیٹے تھے دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے۔۔۔۔احمدیہ تحریک کے دوسرے خلیفہ کے بقول احمدیت اور اسلام ایک ہی چیز کے دورخ ہیں اور احمدیت کا مطلب حقیقی اسلام ہی ہے جس کا حکم خدا نے اس زمانہ کے موعود مسیح کے ذریعہ اس دنیا کو دیا۔جماعت کا قرآن پر پختہ یقین ہے۔جماعت کا اعتقاد ہے کہ قرآن میں لامحدود الہامی خزانے ہیں جن سے دنیا کو مالا مال کرنا جماعت کا نصب العین ہے۔مرزا غلام احمد صاحب نے فرمایا کہ اگر چہ اسلام آج رو بہ تنزل ہے لیکن اس کا احیاء اس زمانہ کے نذیر کے ذریعہ سے ہوگا۔مسیح موعود اس زمانہ کی برائیوں کو اپنے ٹھوس دلائل سے ختم کرے گا۔آپ نے مسلمانوں کی کثیر تعداد کو اپنے حلقہ میں داخل کر لیا۔۔۔۔انہوں نے سوامی دیانند اور اس کے آریہ سماج کو مہلک قرار دیا اور اس کی شہرت کی قبا کو تار تار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔آپ نے کہا کہ ویدوں نے بت پرستی اور اوہام پرستی کی تعلیم دی ہے جو اسلام کے سراسر خلاف ہے۔آپ نے ہندومت کے بہت سے عقائد کو قرآن کی رو سے باطل ثابت کیا اور کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ دنیا کے کونسے حصہ میں چاروں ویدوں نے ایک عقیدہ کی تعلیم دی ہے۔ہندوؤں کی پوری آبادی اپنے الگ الگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔مرزا صاحب نے عقیدہ تناسخ کی بھی تردید کی اور فرمایا کہ اس طرح خدا کی پیدا کرنے کی قدرت کی نفی ہوتی ہے۔یہ عقیدہ کسی شخص کی قانونی اور غیر قانونی پیدائش کے فرق کو مٹا کر خاندانی زندگی کے آبگینہ کی تقدیس کو ٹھیس پہنچاتا ہے کیونکہ اس عقیدہ کے مطابق یہ عین ممکن ہے کہ کسی شخص کے ہاں اس کی اپنی ہی ماں، بیٹی یا بہن دوبارہ پیدا ہو کر آجائے۔مرزا صاحب نے نیوگ کے عقیدہ کی بھی تردید کی اور کہا کہ یہ عورت کی عصمت پر حملہ ہے۔ہندوستان میں مرزا غلام احمد صاحب اپنے عہد میں وہ شخص واحد ہیں جنہوں نے عیسائیت کی علی الاعلان بھر پور مخالفت کی۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ مشنریوں کے ہاتھوں اسلام کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ تبدیلی اسلام ایک غیر معروف چیز تھی لیکن اب ہزاروں مسلمان عیسائیت قبول کر چکے ہیں۔