تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 33
تاریخ احمدیت۔جلد 25 33 سال 1969ء دلچسپ ہے۔ایک حیثیت سے یہ تحریک ہندؤوں کی آریہ سماج کے خلاف ایک دفاعی تحریک تھی جس کا مقصد ہندوؤں کی پست اقوام کو دوسرے مذاہب اختیار کرنے میں روک بننا تھا۔دوسری حیثیت سے یہ تحریک عیسائی مشنریوں کے خلاف ایک ایسا بند تھا جو پنجاب میں اپنی مساعی کے دائرہ کو پھیلا رہے تھے۔لیکن مزید سوچا جائے تو تحریک احمدیت بہت وسیع اور جامع ہے۔تحریک احمدیت کا مرکز قادیان (ضلع گورداسپور ) تھا جہاں سے اس کا احیاء ہوا اور رفتہ رفتہ انڈیا کے دوسرے علاقوں اور غیر ممالک تک پھیل گئی۔لیکن تقسیم ہند کے بعد تحریک کا ہیڈ کوارٹر پاکستان منتقل ہو گیا اور قادیان علاقائی مرکز کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔تحریک کے بانی مرزا غلام احمد صاحب تھے۔آپ بمقام قادیان ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوئے۔تھے۔۱۸۸۰ء میں آپ نے اپنی پہلی شاندار کتاب براہین احمدیہ کا پہلا حصہ شائع کیا۔اس کتاب میں انہوں نے اپنے آپ کو روحانی مصلح قرار دیا۔۱۸۸۸ء میں آپ نے ایک اشتہار شائع کیا اور کہا کہ خدا نے مجھے بیعت لینے کا حکم فرمایا ہے۔۱۸۹۱ء میں اعلان فرمایا کہ میں ہی وہ مہدی اور مسیح ہوں جس کا ذکر قرآن اور بائبل میں آیا ہے۔اپنے دعویٰ کی تصدیق میں انہوں نے تین کتابیں فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام تصنیف فرما ئیں۔اس کے بعد آپ مسلمانوں، عیسائیوں اور آریہ سماج کی بحث و تکرار کا موضوع اور ہدف ملامت بن گئے۔مخالفوں کی شدید مخالفت کے باوجود آپ اپنے کام اور عمل میں اور بھی مضبوط اور راسخ ہو گئے۔آپ کی تحریک نے دن بدن ترقی کرنا شروع کی اور مئی ۱۹۰۸ء میں آپ کی وفات تک یہ تحریک غیر ممالک میں بھی پھیل گئی۔مرزا غلام احمد صاحب کے عروج کا ایک دلچسپ پہلو آپ کی پیشگوئیوں کا ظہور اور صداقت ہے۔مثلاً آپ نے ۱۸۹۷ء میں اعلان فرمایا کہ میں نے خواب میں فرشتوں کو اس زمین میں سیاہ پودے لگاتے دیکھا ہے اور فرشتوں سے استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ طاعون کے پودے ہیں۔آپ نے تحدی سے اعلان فرمایا کہ پنجاب میں وسیع پیمانے پر طاعون پھیلے گا چنانچہ ہوا بھی یہی اور آپ کی پیشگوئی بعینہ ظہور پذیر ہوئی۔مرزا غلام احمد صاحب کی آخری وصیت کے مطابق جماعت کا انتظام وانصرام ایک کمیٹی کے سپرد ہوا جس کا نام صدرانجمن احمد یہ رکھا گیا جو جماعت کے ایک منتخب لیڈر کی زیر نگرانی کام کرے گی جس کا نام خلیفہ اسیح رکھا گیا۔