تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 29 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 29

تاریخ احمدیت۔جلد 25 29 سال 1969ء توفیق ملی اور یقیناً اور دعاؤں کے ساتھ عہدیداران مجالس نے اپنے لئے اور اپنے شریک کار خدام بھائیوں کے لئے پہلے سے بہت بہتر کام کی توفیق اپنے رب سے مانگی ہوگی اور خدام احمدیت کے نظام میں جڑے ہوئے کارکن خدام یقیناً ایک دوسرے کو بھی اپنی دعاؤں سے تقویت دیتے رہے ہوں گے۔پس کتنا ہی مبارک ہے یہ سال جس کا آغاز رمضان مبارک کی عظیم برکتوں کی طاقت لئے ہوئے ہے اور سال بھر کے لئے ایک زادِ راہ ہمارے ہاتھ میں دے رہا ہے۔49 66 ۲۔غالب کا ایک شعر ہے جس میں ظاہری سوال کو ئی نہیں مگر شعر زبانِ حال سے ایک مجسم سوال بنا ہوا ہے اور وہ شعر یہ ہے: ہوا مخالف و شب تار و بحر طوفاں خیز گسسته لنگر کشتی و ناخدا خفت است یعنی ہوا تند و تیز ، رات تاریک اور موج طوفانی ہے۔کشتی کا لنگر ٹوٹا پڑا ہے اور ناخدا سویا ہوا!!۔۔۔۔اس شعر پر غور کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ زمانے کے حالات بھی بعض دفعہ بعینہ اس شعر کے مصداق بن جاتے ہیں۔نجات کی کشتی کے لنگر ٹوٹ جاتے ہیں اور ناخدا سو جاتا ہے۔ایسی ہی ایک ہولناک، پُر آشوب اور تاریک رات دنیا پر آج سے ۱۰۰ برس پہلے طاری تھی جس کا محیط سب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے تھا اور اہل دنیا کی مثال غالب کی اس کشتی کی طرح ہو گئی تھی جس کا ناخدا سوی ہوا ہو۔اب جبکہ ایک آسمانی منادی کرنے والے نے اپنی پر شوکت آواز میں بہت سے سونے والوں کو یہ کہہ کر خواب غفلت سے بیدار کر دیا ہے کہ : سونے والو جلد جاگو یہ نہ وقت خواب ہے جو خبر دی وحی حق نے اس سے دل بیتاب ہے اب جبکہ ناخداؤں کے طائفہ میں اکا دکا یہاں اور وہاں خواب غفلت کا طلسم ٹوٹ رہا ہے اور ٹوٹے ہوئے لنر کو از سر نو تعمیر کیا جا چکا ہے۔اب جبکہ ایک نئے جوش، نئے عزم اور ایک نئے ولولے کے ساتھ دنیا کی کشتی کو ہلاکت سے بچانے کی