تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 368 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 368

تاریخ احمدیت۔جلد 25 368 سال 1969ء نے ایک بین الاقوامی سوشل سیمینار کے ماریشین اور سوڈانی نمائندوں کو مشن میں مدعو کیا جنہیں حسب دستور سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر اور بشیر ہائی سکول کمپالا دکھایا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔سوڈانی نمائندہ نے متعدد کتابیں لیں۔صوفی محمد الحق صاحب نے اس موقع پر کتاب من الرحمن کا انگریزی ترجمہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کتاب کا مقصد عربی زبان کو ام الالسنہ ثابت کرنا ہے۔اس پر اُس نے اسے بھی بہت شوق سے قبول کیا۔یوگنڈ مشن کو پہلی بار جنجہ میں ایک سرکاری، زرعی اور تجارتی نمائش کے موقع پر ایک کامیاب سٹال لگانے کی سعادت نصیب ہوئی۔اس سٹال کا انتظام صوفی صاحب نے محمد شفیق صاحب قیصر کو سپرد کیا جسے انہوں نے کمال فرض شناسی سے انجام دیا۔سٹال کے لئے آیات قرآنیہ، کلمہ طیبہ اور دیگر کپڑے کے دیدہ زیب قطعات صوفی صاحب کی اہلیہ مبشرہ بیگم صاحبہ نے بڑی محنت سے تیار کئے۔یہ نمائش تین دن جاری رہی اور اس دوران میں ہزار ہا عیسائی اور بعض سکھ اور ہندو بھی سٹال پر آئے۔سات سوشلنگ کی کتب فروخت ہوئیں اور مشن کی طرف سے لو گنڈی زبان میں ہزار ہا اشتہارات تقد کئے گئے۔سٹال میں ایک لاؤڈ سپیکر بھی نصب تھا جس پر بار بار اعلانوں کے علاوہ مقامی مبلغین احمدیت نے سواحیلی اور لوگنڈی زبان میں تقاریر فرما ئیں۔سٹال کے بھاری سامان کو لے جانے اور واپس لانے کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام عبدالحئی صاحب بٹ نے نہایت اخلاص سے کیا۔اس نمائش کے معاً بعد صوفی صاحب نے دیگر مبلغین اور احباب جماعت کے ساتھ غیر احمدی مسلمانوں کے جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شرکت فرمائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت میں ظاہر ہونے والے منجزات پر تقریر کی اور خوشخبری دی کہ احمد یہ مشن نے پہلی بارلوگنڈی زبان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر کتاب شائع کر دی ہے اور وہ اس جلسہ پر فروخت ہو رہی ہے۔تقریر کے بعد آپ نے جلسہ کے خصوصی مہمان اور یوگنڈا مسلم کمیونٹی کے صدر کو اس کتاب کا ایک نسخہ بطور تحفہ پیش کیا۔جلسہ پر زیر تربیت احمدی معلمین اور مقامی مبلغین نے ستر شلنگ کا لٹریچر فروخت کیا۔اس سال یوگنڈا میں پوپ پال ششم کی آمد پر پیغام حق پہنچانے کا شرف صرف جماعت احمد یہ یوگنڈا کو حاصل ہوا۔اس سلسلہ میں ڈاکٹر لال دین احمد صاحب، مولوی جلال الدین صاحب قمر اور ڈاکٹر مختار احمد صاحب پر مشتمل ایک جماعتی وفد کی طرف سے انہیں انگریزی ترجمہ قرآن مجید پیش کیا گیا جسے انہوں نے بڑے احترام سے قبول کیا۔پوپ صاحب نے وفد کی موجودگی میں ایک تقریر