تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 26
تاریخ احمدیت۔جلد 25 26 سال 1969ء ہے۔میں بازار سے جا کر رہی لایا تو مجھے بلایا۔جب میں حاضر ہوا تو ایک ڈھکے ہوئے برتن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔دیکھو کیا ہے میں نے دیکھ کر عرض کیا کہ کڑھی ہے۔فرمایا۔ابھی حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ہاں سے آئی ہے۔ایک دفعہ ایک طالب علم جو تعلیم الاسلام کالج کے غیر احمدی طلبہ کے امام الصلوۃ تھے، ملنے آئے۔آپ نے ان کو تبلیغ کی اور فرمایا کہ مجھے آپ کے ماتھے پر احمدی لکھا نظر آتا ہے۔چنانچہ وہ صاحب مرحوم کی تحریک پر الشرکۃ الاسلامیہ پہنچے۔قریباً۔/۱۵۰ کی کتب خرید کر مطالعہ شروع کر دیا اور دوبارہ جب وہ حافظ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کتب کا مطالعہ کر چکے تھے۔انہوں نے نہایت دیانتداری سے اپنے مقتدی طلباء کو کہہ دیا کہ اب میں تمہاری امامت کے قابل نہیں رہا۔تم اپنا امام مقرر کر لو میں تو بیعت کر کے سلسلہ میں شمولیت کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔یہ صاحب آج کل ہری پور ضلع ہزارہ میں انجینئر ہیں اور لال خاں ان کا نام ہے۔( آپ ان دنوں کینیڈا میں نیشنل امیر کے طور پر خدمت سلسلہ کی توفیق پارہے ہیں۔) حضرت حافظ صاحب ایک بہت بڑا کتب خانہ رکھتے جس میں ہزار ہا کتب مذہب و ادب سے متعلق جمع تھیں۔میں نے کبھی اپنی عمر میں مرحوم کو اکیلی چار پائی پر بستر بچھا کر استراحت کرتے نہیں دیکھا۔ہر وقت ان کی چار پائی کا بیشتر حصہ متلاشیان حق کی خدمت کے لئے کتابوں سے بھرارہتا اور وہ ہر حاجت مند کو اس کی ضرورت کا مواد نکال کر دکھاتے اور جب کوئی سعید روح ان کی وساطت سے یا از خود بھی بیعت کر کے انہیں اپنی بیعت کا حال سناتی تو وجد میں آجاتے اور بے حد مسرت اور شادمانی محسوس کرتے۔تالیفات 45 766 اظہار الحق نمبرا، احقاق الحق نمبر۲ ، الحق نمبر ۳ ، ٹریکٹ منجانب جماعت احمد یہ شاہجہانپور اظہار الحق پر تینوں پمفلٹ مولوی غلام محی الدین خان صاحب امام جامع مسجد شاہجہانپور کے بیانات سے متعلق ہیں جو انہوں نے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عدم تکفیر کے بارے میں دیئے۔الحق نمبر ۳ ۲۳ جولائی ۱۹۰۵ء کو اسلامی پریس شاہجہانپور سے شائع ہوا۔اثنا عشرہ۔( مکرم خواجہ عبدالقیوم صاحب بی اے ربوہ کا بیان ہے ”حضرت حافظ صاحب کا غیر از جماعت علماء سے بھاگلپور میں مناظرہ بھی ہوا اور ازاں بعد آپ نے ایک رسالہ اثنا عشرہ تالیف