تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 364 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 364

تاریخ احمدیت۔جلد 25 364 سال 1969ء جس کی تعلیمات قابل عمل ہیں۔اسی موقع پر ایک خاتون سے جو کسی سکول کی استانی تھیں اسلام میں عورت کے مقام پر بہت دلچسپ گفتگو ہوئی۔وہ اپنے اس خیال پر مصر تھیں کہ عیسائیت نے عورتوں کو اونچا مقام دیا ہے لیکن جب بائبل اور اسلام کی تعلیمات کا موازنہ کر کے بتایا گیا کہ کس طرح اسلام نے صنف نازک کے مقام اور شان کی عظمت بیان کی ہے تو وہ بالکل خاموش ہو گئیں۔۔ہالینڈ کے شہر Dordrecht میں ایک عیسائی فرقہ سالویشن آرمی کے سامنے مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل نے پہلی بار اسلام پر تقریر کی اور سوالوں کا جواب دیا۔اس دوران تثلیث اور الوہیت مسیح کا عقیدہ بھی زیر بحث آیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاضرین پر عیسائی عقائد کی کمزوری روز روشن کی طرح واضح کر دکھائی۔صاحب صدر نے دیکھا کہ سامعین اسلامی عقیدہ کی معقولیت سے متاثر ہو رہے ہیں تو انہوں نے مزید بحث روک دی۔۴۔روٹرڈیم شہر کے مضافات میں انڈونیشین مسلمانوں کے چند گھرانے آباد تھے۔ایک مقام پر جہاں اکثریت حجاج کی تھی بعض الا زھر یو نیورسٹی اور بعض مکہ معظمہ کے تعلیمیافتہ لوگ بھی موجود تھے، مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل نے ایک محفلِ سوالات میں شرکت کی اور متعدد آیات قرآنیہ کی تشریح تفسیر کبیر کی روشنی میں بیان کی۔وفات مسیح علیہ السلام کی آیات بھی زیر بحث آئیں۔اس کی صحیح تشریح بھی آپ نے پیش کی جسے سب نے پسند کیا۔۵۔ہیگ سے تین سو کلومیٹر دور مسافت پر واقع شہر Breskens میں ایک بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں اسلام کی نمائندگی مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل نے کی۔اس کا نفرنس میں آپ نے اسلام، قرآن کریم اور اسلامی عبادات کے موضوع پر تین نہایت مدلل اور اثر انگیز تقریریں کیں جن کا نہایت خوشگوار اثر سننے والوں پر ہوا اور ان کے ذہنوں سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئیں اور اسلام کے متعلق دلچسپی بڑھ گئی۔تینوں تقاریر کے بعد سوالات کا دلچسپ سلسلہ جاری رہا جن کے جوابات آپ نے نہایت عمدگی سے دئے۔کئی افراد نے بعد میں بھی معلومات حاصل کیں اور بعض نے سلسلہ کا لٹریچر بھی خریدا۔۔ہالینڈ کی ورلڈ کانگریس آف فیتھ کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اکمل صاحب بھی مدعو تھے۔آئندہ سال کی مجلس عاملہ میں آپ کو اسلام کا نمائندہ منتخب کیا گیا۔زائرین کی آمد : اس سال اسلام پر معلومات حاصل کرنے ، مسجد دیکھنے یا کسی دینی مشورہ کے