تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 25 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 25

تاریخ احمدیت۔جلد 25 25 سال 1969ء 44 766 کے اقتباس پڑھ کر وحدت الوجود پر بڑی برجستہ اور مؤثر تقریر کی۔ہم کہتے تھے کہ حضور تو وحدت الوجود کے قائل نہیں ہیں (پھر) یہ کیا بات ہے؟ تقریر ختم ہوئی تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس مسئلہ کا ردتو اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ہی فرما دیا ہے یہ کہہ کر سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت پڑھی۔حضور کا اتنا فرمانا تھا کہ صوفی علی محمد چیخ مار کر حضور اقدس کے قدموں میں گر پڑے اور پکارنے لگے میں مارا گیا۔میں برباد ہو گیا۔حضور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر تسلی دی اور فرمایا کہ جو پہلے گزر چکا اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ جب حضرت بانی سلسلہ نے سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت پڑھی تو ہمارے ہاتھ پلے کچھ نہ پڑا۔صوفی علی محمد صاحب صوفی تھے۔وہ اس امر کو فورا سمجھ گئے۔مگر میں کچھ نہ سمجھ سکا۔پیر منظور محمد صاحب نے میری طرف دیکھا اور میری حالت کو سمجھ گئے۔انہوں نے کہا کہ حضور اقدس نے یہ آیت پڑھ کر مسئلہ وحدت الوجود کار ڈفرمایا ہے کہ رب ، عالمین سے جدا ہے۔مجاہد افریقہ سید محمد ہاشم صاحب بخاری کا بیان ہے:۔’حافظ صاحب نے قبول احمدیت کے بعد سے اپنی زندگی تبلیغ احمدیت کے لئے وقف کر دی۔۱۸۹۵ء سے لے کر اپنی وفات سے ایک دن پہلے تک یہ سلسلہ تبلیغ جاری رہا۔تبلیغ ان کی روح کی غذا تھی اور اسی میں ان کی راحت تھی۔کیسے ہی بیمار ہوں، تھکے ہوئے ہوں مگر جس وقت تبلیغ کا سلسلہ شروع ہو جاتا تو آواز میں شوکت اور رعب پیدا ہو جاتا اور پھر آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی جاتی۔وقت اپنی پرواز سے اڑا چلا جاتا اور یہ نحیف و نزار اللہ کا بندہ عشق مسیح پاک میں مدہوش دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتا۔حوالہ جات اور کتابوں کی بھر مار ہو جاتی۔کتابیں طالبین حق کے ہاتھوں میں تھما دی جاتیں اور حوالے خود پڑھنا شروع کر دیتا اور جب تک بات ذہن نشین نہ کر الیتا بس نہ کرتا۔اس میں چھوٹے بڑے پڑھے لکھے اور ان پڑھ کی تمیز اور قید نہ تھی۔آپ لوگوں سے مل کر بے حد خوش ہوتے تھے۔ایک دفعہ میں نے چند ملنے والوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ آرام کر رہے ہیں جس پر سخت برہمی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ میرے آرام سے ان لوگوں کا مجھے ملنا زیادہ ضروری تھا۔مرحوم محبت کا ایک بحر بیکراں تھے۔بہت دعا گو انسان تھے۔لوگ بھی یہ جانتے تھے کہ ضرور ہمیں دعاؤں سے نوازیں گے۔اس لئے اپنی تکالیف بے حجابانہ لکھ دیتے اور قبولیت دعا کے زندہ نشان دیکھتے۔ایک دن مجھے فرمانے لگے کہ میرا بھی عجیب معاملہ ہے۔اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ میری حاجات کا خیال رکھتا ہے اور نصرت فرماتا ہے پھر فرمایا کہ آج میرا دل کڑھی کھانے کو چاہتا