تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 24 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 24

تاریخ احمدیت۔جلد 25 24 سال 1969ء بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں : ’ایک دفعہ ایک واقف زندگی مبلغ ملک سے باہر تبلیغ کے لئے جار ہے تھے۔دارالواقفین میں ایک عصرانہ کا اہتمام تھا جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور حضرت حافظ صاحب بھی شریک تھے۔میں نے دیکھا کہ حضرت حافظ صاحب حضرت خلیفہ ایج سے کافی فاصلہ پر ایک کونہ میں نگاہیں جھکائے بیٹھے تھے۔دورانِ گفتگو حضرت خلیفہ اُسیح نے آپ سے ایک مرتبہ کسی بات پر استفسار بھی فرمایا جس کا جواب حضرت حافظ صاحب نے اسی طرح نگاہیں جھکائے بے حد احترام سے عرض کر دیا۔اسی شام جب حضرت حافظ صاحب کی مجلس میں مجھ ایسے چند نوجوان بیٹھے تھے تو خاکسار نے حضرت حافظ صاحب سے یہ سوال کر دیا کہ آپ کو یہ رعایت حاصل ہے کہ جب چاہیں حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں اور جس قدر قریب چاہیں بیٹھ سکتے ہیں مگر آپ اس قدر دور بیٹھے تھے۔پہلے تو حضرت خاموش رہے اور پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر بولے میں اس جمال کی برداشت کی طاقت کہاں سے لاؤں اور سچ تو یہ ہے کہ میں نے تو جی بھر کر کبھی حضور کو دیکھا ہی نہیں۔جودھامل بلڈنگ لاہور میں قیام کے دوران ایک مرتبہ اپنی کچھ رقم میں نے حضرت حافظ صاحب کے پاس امانت رکھ دی۔آپ نے نوٹ لے کر گئے اور فرمایا کہ اس امانت میں انہی نوٹوں کی قید تو نہیں۔میں بات سمجھ نہ سکا اور وضاحت کے لئے عرض کیا تو فرمایا کہ واپسی کے وقت اگر یہ نوٹ تبدیل ہو چکے ہوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہ ہوگا۔میں خاموش ہو گیا۔سوچ رہا تھا کہ یہ تقویٰ کی کس قدر باریک راہ ہے۔مجھے توقف میں دیکھ کر کر آپ نے فرمایا کہ اگر آپ کو انہی نوٹوں کی واپسی پر اصرار ہو تو میں اس طریق پر اسے رکھ لوں گا۔میں نے عرض کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔کوئی سے بھی نوٹ ہوں۔حضرت حافظ صاحب نے اس معمولی سی امانت کی تحریر لکھ کر میرے ہاتھ میں دے دی۔میں نے لینے سے انکار کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ ضروری ہے زندگی کا کیا اعتبار۔گویا حضرت حافظ صاحب معمولی معاملات میں بھی بڑے محتاط تھے۔66 چوہدری عبد الواحد صاحب سابق نائب ناظر اصلاح وارشاد تحریر فرماتے ہیں:۔۶۵۔۶۔۲۹ کی بات ہے۔حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت بانی سلسلہ کی مجلس میں ایک شخص جس کا نام صوفی علی محمدی محمد علی تھا، نے اجازت چاہی کہ انہیں بھی تقریر کرنے کی اجازت دی جائے۔حضور اقدس نے اجازت فرمائی۔انہوں نے حضرت بانی سلسلہ کی ایک کتاب