تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 343
تاریخ احمدیت۔جلد 25 343 سال 1969ء were baptised and were then informed by the Mother Superior that they were now Christians۔When her mother protested about this, she was blandly informed that she could, if she wished, remove her daughter from the school۔As it is very difficult to secure a place for a girl at a good Primary Boarding School, the mother had to acquiesce for the sake of her child's education۔" 117 ترجمہ: مارچ ۱۹۵۶ء میں مجھے ہوسا قبیلے کی ایک لڑکی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔اس کی عمر چھ سال تھی اور اس نے ایک مشہور رومن کیتھولک کو نوینٹ بورڈنگ سکول میں پہلی ٹرم مکمل کی تھی۔اس بچی نے مجھے بتایا کہ سکول میں داخل ہونے کے بعد بھی ایک ہفتہ پورا نہیں گذرا تھا کہ نئی داخل ہونے والی تمام غیر عیسائی لڑکیوں کو جن میں وہ خود بھی شامل تھی، بپتسمہ دیا گیا۔بعد میں سکول کی Mother Superior نے انہیں بتایا کہ اب تم سب عیسائی ہو۔جب اس بچی کی ماں نے بچوں کو عیسائی بنانے کے اس طریق کے خلاف احتجاج کیا تو اسے صاف کہہ دیا گیا کہ اگر تم چاہوتو اپنی لڑکی کو سکول سے اٹھا سکتی ہو۔چونکہ ایک اچھے پرائمری بورڈنگ سکول میں کسی لڑکی کو جگہ دلوانا بے انتہا مشکل ہے اس لئے ماں کو اپنی بچی کی تعلیم کی خاطر چپ سادھنے میں ہی عافیت نظر آئی۔آپ نے فرمایا یہ تھی وہ صورتحال جس نے مسلمانوں کو بالعموم اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے سے باز رکھا۔اب بھی ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جس میں وزارت تعلیم نے مسلمان طلباء کو اسلامی د مینیات وغیرہ کی تعلیم دینے کے لئے کسی مسلمان استاد کو مقرر کیا ہو۔ہمیں چاہیے کہ اس مسئلہ کو خاطر خواہ طریق پر حل کرنے کے لئے مثبت اور مؤثر ذرائع تلاش کریں۔سب سے اول تو مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں اتحاد اور تعاون کا ہونا ضروری ہے۔دوسرے وقت کی نہایت اہم ضرورت یہ ہے کہ ایک مسلم ٹریننگ کالج کا قیام عمل میں لایا جائے۔تیسرے یہ کہ حکومت سے پرزور درخواست کی جائے کہ ایسے سکولوں میں جن میں مسلمان طلباء خاصی تعداد میں ہوں ان کے مذہبی مفاد کی دیکھ بھال کے لئے ایک ایک مسلمان استاد مقرر کیا جائے۔ٹرینینگ کا لجز میں مسلمان طلباء کو اسلامی علوم پڑھانے کی تربیت دینے کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔حکومت پورے خلوص کے ساتھ یہ بھی جائزہ لے اور اس امر کی نگرانی کرے کہ سکولوں میں عبادت کی آزادی سے متعلق قوانین پر کما حقہ عمل کیا جائے۔مسلمان