تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 342 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 342

تاریخ احمدیت۔جلد 25 342 سال 1969ء 116- کھیل اور تعلیمی میدان میں نمایاں پوزیشن لینے والے طلباء کو سرٹیفکیٹس اور منتخب کتب انعام میں دی گئیں۔تعلیمی میدان میں سب سے زیادہ انعام لوکل احمد یہ مشنری اور جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل جناب ابراہیم مینو کے صاحبزادے نے حاصل کئے۔صاحب صدر عزت مآب مسٹر علی ارشد ہائی کمشنر آف پاکستان مقیم غانا نے اپنے صدارتی ریمارکس میں سکول کی انتظامیہ کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ میرے ہم وطن پاکستانی احباب ملک غانا کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ریڈیو نانا نے اس کامیاب جلسہ کی خبر نشر کی نیز اخبار ڈیلی گرافک مورخہ 9 جون ۱۹۶۹ء میں یہ خبر شائع ہوئی۔جلسہ کو کامیاب بنانے میں الحاج مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم، مرز لطف الرحمن صاحب اور ملک غلام نبی صاحب شاہد نے نمایاں خدمات انجام دیں۔اکتوبر کے دوسرے ہفتہ میں دارالحکومت اکرا کے کمیونٹی سنٹر میں سنٹر فارسوک ایجوکیشن کی اکرا برانچ کے زیر اہتمام ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی جس کا موضوع مسلمان اور جدید تعلیم تھا۔مذاکرہ میں مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم نے بھی حصہ لیا۔آپ کی تقریر خاص اہمیت کی حامل تھی۔آپ نے ازمنہ گذشتہ میں مسلمانوں کے شاندار علمی و سائنسی کارناموں پر روشنی ڈالنے کے بعد تفصیل سے بتایا کہ کس طرح پہلے مختلف یورپین طاقتوں نے کرسچین مشنری سوسائٹیز کی پشت پناہی میں اور پھر برطانیہ نے پورے ملک کو عیسائیت کا حلقہ بگوش بنانے کے لئے اپنے مشن سکولوں میں جدید تعلیم کو آلہ کار بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔آپ نے بتایا کہ عیسائی مشنری اکثر و بیشتر اپنے سکولوں میں ایک مسلمان طالب علم کو اس وقت تک داخل نہیں کرتے تھے جب تک کہ وہ اپنا اسلامی نام ترک کر کے عیسائی نام اختیار نہ کر لے۔پھر رفتہ رفتہ یہ کوشش کی جاتی تھی کہ تعلیم مکمل کرنے سے پہلے اسے بپتسمہ دے دیا جائے۔اور عیسائی بن کر ہی سکول سے نکلے۔اس حقیقت کا اعتراف خود عیسائی سکالرز نے بھی کیا۔چنانچہ مسٹر جو پرائس ( Mr۔Jo Price) نے جون ۱۹۶۶ء میں اپنے ایک مضمون میں لکھا: "I interviewed,۔۔۔۔in March, 1956 a six year-old Hausa girl, who had just completed her first term at a well-known Roman Catholic Convent Boarding School۔During the first week at the School, she told me, all the non-Christian girls, including herself,