تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 341 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 341

تاریخ احمدیت۔جلد 25 341 115- سال 1969ء 114 دوم انعام کے مستحق قرار پائے۔اس سال پہلی بار کا نفرنس کے موقع پر بائیں زبانوں میں تقاریر کا پروگرام ہوا جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ” میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا منتخب کیا گیا۔یہ پروگرام بہت دلچسپ رہا اور سمندر کے کنارہ پر اس کا اعلان بہت ایمان افروز نظارہ پیش کر رہا تھا۔کانفرنس کے موقع پر ماہنامہ گائیڈنس کا ضخیم نمبر شائع ہوا اور ایک نہایت خوبصورت سہ رنگا اسلامی کیلنڈر بھی جو بہت مقبول ہوا اور تبلیغ کا موثر ذریعہ بنا۔ملک کے دونوں بڑے اخباروں ڈیلی گرافک (The Daily Graphic) اور غانین ٹائمنر ( The Ghanaian Times) میں متعدد بار کا نفرنس کا ذکر ہوا اور ریڈیو اور ٹیلیویژن نے اس کی خبریں نشر کیں۔مئی میں بیرونگ ابا فوریجن کے ریجنل جماعتی مرکز ٹیچی مان ( Techiman) میں مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم نے ایک نئے پختہ اور وسیع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔تقریب کے جلسہ کی صدارت پیراماؤنٹ چیف ٹیچی مان نے کی جو مختلف ماتحت چیفس کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔جلسہ سے جناب کلیم صاحب، الحاج محمد آرتھر صاحب اور مولوی عبد الوہاب صاحب نے خطاب فرمایا۔اس تقریب کی خبر ریڈیو نے نشر کی اور اخبار ڈیلی گرافک اور غانین ٹائمنر میں چھپی۔اگلے ماہ جون میں تعلیم الاسلام سیکنڈری سکول کے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات کی تقریب نہایت تزک واحتشام سے عمل میں آئی۔بجلی کے قمقمے روشن کئے گئے۔سکول کے تالاب اور باغیچہ کو نئے سرے سے سجایا گیا۔مہمان خصوصی جناب ابودے کمشنر نیشنل لبریشن کونسل تھے۔جناب محمد لطیف صاحب ایم اے ہیڈ ماسٹر نے اپنی مختصر مگر جامع رپورٹ میں بتایا کہ یہ سکول کماسی کا قدیم ترین سیکنڈری سکول ہے جس کا آغاز ۱۹۵۰ء میں ایک عارضی عمارت میں ہوا۔اولین اساتذہ میں سے ڈاکٹر سفیر الدین احمد صاحب مرحوم اور جناب سعود احمد دہلوی نے اس کے استحکام کے لئے انتھک محنت کی۔۱۹۵۳ء میں اسے موجودہ عمارت میں منتقل کیا گیا۔۱۹۵۶ء میں وزارت تعلیم نے اسے با قاعدہ منظور کرتے ہوئے مالی امداد دینا شروع کی۔مرکز سے صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب ایم اے پرنسپل مقرر ہو کر تشریف لائے۔۱۹۶۵ء میں وزارت تعلیم نے دو سائنس لیبارٹریز، چار کلاس رومز اور دو بلاک بورڈ نگ کے لئے مہیا کئے۔اسی سال سے سکول میں جنرل سرٹیفیکیٹ آف ایجوکیشن ایڈوانسڈ لیول کی کلاسز سائنس اور آرٹس کے مضامین میں جاری کی گئیں۔آج نتائج کے اعتبار سے یہ احمدیہ سکول بہترین سکولوں میں شمار ہوتا ہے۔