تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 332 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 332

تاریخ احمدیت۔جلد 25 332 سال 1969ء اور استاد تھے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔شیعہ عالم فصیح عربی میں کلام کی قدرت رکھتے تھے۔آپ نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض عربی تصانیف پیش کیں۔تین دن کے بعد دوبارہ تشریف لائے۔اب ان کا انداز ہی اور تھا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مبارک نام انتہائی ادب سے لیتے اور عقیدت کے ساتھ رحمہ اللہ کہتے اور اصرار کے ساتھ مزید کتب ساتھ لے گئے۔اس مشن کا ایک بڑا کام سوئٹزر لینڈ کے احمدی احباب کی دینی تعلیم و تربیت کا مؤثر انتظام ہے۔اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کی خصوصی توجہ اس پہلو کی طرف بھی رہی اور آپ بار بار اپنے سوس بھائیوں کو تلقین فرماتے رہے کہ یہ آپ کا مشن ہے۔میں تو ایک پردیسی ہوں۔آپ کو خود اس قابل ہونا چاہیے کہ اس بار کو اٹھا ئیں۔جونہی کوئی نیا احمدی ہوتا آپ اسے تعلیم دینا شروع کر دیتے۔آپ نے ایک مطبوعہ رپورٹ میں لکھا ” بعض نما ز یاد کر کے ختم کر رہے ہیں۔بعض قرآن کریم کو پڑھنے کو مقصود بنا رہے ہیں۔ان زیر رپورٹ دو مہینوں میں دو نے قرآن کریم پڑھا۔ایک نے تقریباً یتر نا القرآن ختم کر لیا ہے۔ایک نے ابھی شروع کیا ہے۔یہ تعلیم انفرادی ہے۔اس میں کلاس ممکن نہیں۔بچوں کی البتہ تین کلاسیں منعقد ہوئیں۔اس کے علاوہ جنوبی افریقہ کے ایک افریقن دوست نے آنا شروع کیا۔جنوبی افریقہ میں عرصہ ہوا اسلام قبول کیا تھا مگر نماز تک نہ جانتے تھے۔آتے اور مسجد میں تسبیح پکڑ کر بیٹھے کچھ پڑھتے رہتے۔میں نے نماز کے سبق دئے۔ساتھ نمازیں پڑھائیں اور میسر نا القرآن بھی شروع کر دیا۔لٹریچر بھی ان کے پاس مطالعہ کے لئے بہت پڑا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو پھر ہی ممکن ہے کہ پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ایک ترک اپنی سوئس (Swiss) اہلیہ کو لے کر آئے اور کہا اس نے اسلام قبول کر لیا ہے۔مگر اسے اسلام کا چنداں علم نہیں۔آپ اسے تعلیم دیں۔میں نے ہفتہ میں ایک شام انہیں وقت دینا منظور کیا اور ان کی تعلیم شروع کر دی۔سیرالیون جیسا کہ اس سال کے ابتدائی حالات میں بتایا جا چکا ہے جماعت احمد یہ سیرالیون کی بیسیویں سالانہ کانفرنس ۷-۸-۹ فروری ۱۹۶۹ء کو نہایت کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر ہوئی۔کانفرنس سے ایک دن قبل مجلس شوری کا بھی انعقاد ہوا جس میں جماعتوں کے نمائندوں نے گذشتہ سال کے فیصلوں کا جائزہ لیا اور آمد و خرج کے میزانیہ، نئی تجاویز اور اصلاحات پر غور وفکر کیا۔کانفرنس میں گورنر جنرل سیرالیون ہز ایکسی لینسی بانجا تیجانسی اور وزراء اور دیگر اہم شخصیتوں نے شرکت کی۔