تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 324
تاریخ احمدیت۔جلد 25 324 سال 1969ء جارج اور سنگن برگ میوزیم کے ہال میں تقاریر کیں۔جماعت احمد یہ اسلام کی ایک تبلیغی جماعت ہے جو تجدید و احیائے اسلام کے ساتھ ساتھ عیسائی و غیر عیسائی اقوام اور اسلام کے مابین صلح و رواداری کے اصولوں کے تحت بہتر فضا اور خوشگوار ماحول پیدا کرنے کی علمبردار ہے۔جرمنی میں ہمبرگ کے بعد فرینکفرٹ جماعت احمدیہ کا دوسرا مشن ہے۔اسلام کے متعلق بیشمار تقاریر اور مذاکرات کے ذریعہ زبردست بیداری کے پیدا ہونے سے اس مشن کے کام کی غمازی ہوتی ہے۔سکولوں ، مذہبی اداروں اور دیگر سوسائٹیوں کی طرف سے بڑی کثرت کے ساتھ اس مشن کو اسلام کے متعلق معلومات بہم پہنچانے کے دعوت نامے ملتے ہیں۔یو نیورسٹی اور میونسپل لائبریریوں کو اسلام کے متعلق یہاں سے کتب مہیا کی گئی ہیں۔ترجمہ و تصنیف کے دیگر کاموں کے علاوہ جو اس مشن سے وابستہ ہیں اسپرانٹو زبان میں قرآن کریم کا تر جمہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جو اس مشن کے گہرے اشتراک عمل سے معرض وجود میں آیا ہے۔اس کے علاوہ مسجد نور فرینکفرٹ میں اسلامی ممالک سے آنے والے زائرین ،طلباء، تاجروں اور سیاحوں وغیرہ کے لئے روحانی مرکز ہی نہیں بلکہ اس اجنبی ملک میں ان کے لئے وطن کی فضا مہیا کرتی ہے۔دوسرے اہم اخبارات (Rundschau) اور (Neue Presse) نے بھی ایسے ہی نوٹ شائع کئے۔89۔۴ جولائی ۱۹۶۹ء کو مسجد نور فرینکفرٹ میں سیرت النبی علیہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس میں انڈونیشیا کے سفیر مقیم جرمنی پروفیسر یوسف اسماعیل صاحب نے آنحضرت علی کی قوت قدسیہ کا اثر انڈونیشیا پر“ کے موضوع پر تقریر کی۔موصوف بون سے خاص طور پر اس تقریب کے لیے تشریف لائے تھے۔اس اجلاس کی دوسری تقریر محمود اسماعیل زولش صاحب نے آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ کے موضوع پر کی۔مقامی اخبارات نے اس تقریب کی خبر نمایاں طور پر شائع کی۔اسی طرح مسجد نور کے لیکچر ہال میں ڈاکٹر عبد الہادی کیوسی صاحب نے ایک تقریر کی جس میں بائبل اور قرآن میں مشتر که بیان کرده امور اور قرآن کریم کی فضیلت کو ثابت کیا۔فرینکفرٹ کے مرکزی چرچ ڈوم میں بھی مکرم مسعود احمد جہلمی صاحب کو تقریر کا موقعہ ملا۔جرمنی کے نومنتخب صدر ڈاکٹر ہائے من اور فرینکفرٹ 66