تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 16 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 16

تاریخ احمدیت۔جلد 25 16 سال 1969ء پریذیڈنٹ صاحب نے جماعتی ضروریات کے لئے اسے کرایہ پر لے رکھا ہے۔۵ روپے ماہوار کرا یہ کسٹوڈین کو ادا کیا جاتا ہے اس وقت خاکسار محمد عقیل قریشی اس مکان میں رہ رہا ہے۔خاکسار کے پاس جو کاغذات ہیں وہ فسادات کے بعد کے ہیں۔حافظ صاحب نے یہ مکان بطور وقف زبانی جماعت احمدیہ کو دے رکھا تھا اور مکان مذکور عملی طور پر جماعتی ضروریات میں ہی استعمال ہوتا چلا آ رہا ہے۔کسٹوڈین سے مقدمہ لڑا گیا لیکن آخری فیصلہ کسٹوڈین نے اپنے ہی حق میں کیا۔یعنی اراضی افتادہ و مکان جماعت سے لے لیا گیا۔اب یہ ملکیت کسٹوڈین کی ہے۔۱۹۲۵ ء و ۱۹۲۶ء میں احمدیہ مسجد شاہجہانپور کے مقدمہ کی پیروی کے لئے قادیان سے حضرت وی فضل الدین صاحب وکیل اور کپورتھلہ سے حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر تشریف لے گئے اور خاص اس غرض کے لئے کچھ عرصہ شاہجہانپور مقیم رہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے عدالت میں مدلل بحث کی۔حضرت حافظ مختار احمد صاحب نے ان بزرگوں کی بے حد مدد فرمائی۔۱۹۳۳ء میں حضرت حافظ صاحب نے مقدمہ بہاولپور کے دوران مولانا غلام احمد صاحب بدوملہوی اور دیگر مبلغین سے گراں قدر تعاون فرمایا، راہنمائی کی اور اپنے قیمتی اور مفید مشوروں سے نوازا۔نیز مارچ ۱۹۳۴ء میں بہاولپور بھی تشریف لے گئے۔دوسرے شہروں کی طرح ۱۷ جون ۱۹۲۸ء کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا جلسہ ہوا اور یہ جلسہ بھی حضرت حافظ صاحب کے پختہ احاطہ ہی میں ہوا اور حضرت حافظ صاحب کی تائید اور منشی نثار احمد صاحب بی اے ایل ایل بی وکیل شاہجہانپور کی تحریک سے خان محمد محمود الحسن خان صاحب سب حج بہادر سیتاپور و رئیس شاہجہانپور صدر جلسہ قرار پائے۔جلسہ میں دیگر مسلم و غیر مسلم مقررین کے علاوہ حضرت حافظ صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدیم المثال احسانات کے موضوع پر خطاب فرمایا۔آخر ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کا آغاز ہوا تو آپ اس کے مالی جہاد میں شامل ہو گئے۔آپ کا ذکر تحریک جدید کی پانچ ہزاری مجاہدین کی فہرست کے صفحہ ۰۴ اپر درج ہے۔۱۹۴۵ء میں بشیر احمد آرچرڈ صاحب پہلی بار تلاش حق میں قادیان تشریف لائے تو حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے آرچرڈ صاحب کو تبلیغ کرنے کے لئے حضرت حافظ صاحب کا انتخاب کیا جوان دنوں قادیان میں مہان خانہ کے ایک جدید کوارٹر میں قیام فرما تھے۔آرچرڈ صاحب بھی مہمان خانہ میں ہی مقیم ہوئے اور ان کے ساتھ محمد ضیاء الحق صاحب (لاہور ) ٹھہرے ہوئے تھے اور انگریزی میں