تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 261 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 261

تاریخ احمدیت۔جلد 25 261 سال 1969ء وہ ایک غنتو راحمدی تھے اور اسلام کے خلاف لکھی ہوئی تحریر دیکھ کر ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی اور جب تک وہ اس کا جواب نہ لکھ لیتے تھے انہیں چین نہ آتا تھا۔۱۹۶۷ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں جماعت سوئٹزرلینڈ کی طرف سے ایڈریس پیش کرنے کی سعادت آپ ہی کو حاصل ہوئی۔اس مجاہد سوئس بھائی کا جنازہ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے پڑھایا۔124 ڈاکٹر عبدالکریم صاحب امیر جماعت احمدیہ ملتان (وفات: ۲۹ /اگست ۱۹۶۹ء) موضع مندراں والی ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔تقسیم ملک کے بعد ملتان تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی پریکٹس میں بڑی برکت پیدا کی۔ملک عمر علی صاحب کی وفات (۱۰ مئی ۱۹۶۴ء) کے بعد ضلع ملتان کی جماعتوں کے امیر منتخب ہوئے اور اس اہم ذمہ داری کو مرتے دم تک پوری ذمہ داری ، اخلاص اور فرض شناسی کے ساتھ نبھایا اور اس سلسلہ میں اپنی پریکٹس اور گھر کے کاموں کی کوئی پرواہ نہ کی۔سچ سچ فنافی الخلافہ تھے اور مرکزی ہدایات پر کما حقہ عمل کرنا جزوایمان سمجھتے تھے۔سلسلہ کے معاملہ میں نہایت درجہ غیور تھے۔مرکزی مبلغوں اور کارکنوں سے بے حد محبت و شفقت سے پیش آتے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں آپ ان کی خدمت اور مہمان نوازی نہایت خندہ پیشانی اور خلوص دل سے کرتے تھے اور انہیں ادویہ مفت دیتے تھے۔مکرم عبدالمنان شاہد صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ مکرم ڈاکٹر صاحب کے دل میں دینی کام سرانجام دینے کا بے پناہ جذبہ تھا۔اور اس کے لئے اپنی پریکٹس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے۔ایک دو سال آپ کو مالی کمزوری آئی تو بعض کم فہم لوگوں نے کہا کہ آپ دوکان پر کم بیٹھتے ہیں اور ہر وقت جماعتی کام کرتے رہتے ہیں۔اس وجہ سے کمزوری ہے۔آپ امارت کا کام چھوڑ دیں تو مکرم ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ یہ جو تھوڑی بہت آمد مجھے ہو رہی ہے یہ دراصل امارت ہی کی برکت سے ہے۔آپ مرکزی مہمانوں کا خاص خیال رکھتے تھے۔انہیں ادویہ مفت دیتے جو بھی مربی سلسلہ مرکز کی طرف سے مقرر ہوتا اس کی عزت کرتے اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتے بلکہ مجھے ایک دفعہ بتلایا کہ میں تمام غیر احمدی مولویوں اور طالب علموں کو بھی مفت دوا دیتا ہوں۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے کارکنان کا ادب و احترام کرتے تھے اور ان سے بے حد محبت و شفقت اور